پی ایس ایل 10 میں بطور کھلاڑی شرکت؛ شعیب ملک نے تنقید پر خاموشی توڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
لاہور:
پاکستان کے تجربہ کار آل راؤنڈر شعیب ملک نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 10 میں بطور کھلاڑی اور مینٹور شرکت پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا۔
شعیب ملک پر مداحوں اور بعض سابق کرکٹرز کی جانب سے تنقید کی جا رہی تھی کہ انہیں اب نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی پر توجہ دینی چاہیے نہ کہ میدان میں خود اترنا چاہیے۔
43 سالہ شعیب ملک اس وقت کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کر رہے ہیں، انہوں نے جاری سیزن میں اب تک 2 میچز میں صرف 14 رنز اسکور کیے ہیں، شعیب ملک پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ بطور مینٹور بھی منسلک ہیں۔
شعیب ملک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ میرے معاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ میں کھیلنے کا اہل ہوں اور اسی لیے کھیل رہا ہوں۔ وہ اس وقت تک دستیاب رہیں گے جب تک ٹیم کو اُنکی ضرورت ہے۔
شعیب ملک نے کہا کہ پی سی بی کے ساتھ ان کا معاہدہ انہیں لیگ میں بطور کھلاڑی شرکت کی اجازت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں جب بھی ضرورت ہو اپنی مینٹور کی ذمہ داریاں پوری کرتا ہوں۔ میرے معاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ میں کھیلنے کا اہل ہوں اور اسی لیے کھیل رہا ہوں۔
شعیب ملک نے واضح کیا کہ ٹیم کی حکمت عملی تیار کرنا انتظامیہ کا کام ہے جبکہ کھلاڑیوں کا فرض ہے کہ جب بھی موقع ملے وہ اپنی کارکردگی دکھائیں۔
انہوں نے کہا کہ سوچنے اور منصوبہ بندی کرنے کا کام تھنک ٹینک کا ہوتا ہے۔ ہمارا کام ہے کہ جب موقع ملے، پرفارم کریں۔ ہم اپنی ماضی کی غلطیوں کو درست کرنے اور بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لوگ اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ میں اب تک کیوں کھیل رہا ہوں لیکن کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ قومی ٹیم کے موجودہ کھلاڑی مکمل پی ایس ایل سے باہر کیوں بیٹھے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شعیب ملک نے نے کہا کہ کہ میں
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔