کوڑا کرکٹ بھی کسی چیلنج سے کم نہیں
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 26 اپریل 2025ء) ویسے تو اس گھریلو کچرے کی دو بڑی آسان تقسیم نامیاتی اور غیر نامیاتی ہوتی ہے، یعنی وہ کچرا جو سڑ کر بہ آسانی زمین یا مٹی کا حصہ بن جاتا ہے، بلکہ پیڑ پودوں کے لیے اچھی کھاد کا کام بھی دیتا ہے، جب کہ دوسری طرف غیر نامیاتی کچرا وہ ہوتا ہے جس میں پلاسٹک اور ایسی ٹھوس کیمیائی چیزیں شامل ہیں، جو بعض بہت طویل عرصے بعد مٹی کا حصہ بن کر تلف ہو پاتی ہیں، تو بعض کو ٹھکانے لگانا تو بہت بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔
دنیا بھر میں کوڑا کرکٹ کے حوالے سے باقاعدہ گھریلو سطح پر تربیت کی جاتی ہے کہ کس قسم کے کچرے کو کس رنگ کے تھیلے میں ڈالنا ہے اور کس طرح کے کچرے کو کس تھیلے میں۔ جسے روزانہ پھر سرکاری اہل کار اٹھا کر لے جاتے ہیں اور یہ سختی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اگر کسی نے غلط رنگ کے تھیلے میں کوئی کچرا ڈال دیا تو اس کا باقاعدہ جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔
(جاری ہے)
دوسری طرف جب ہم اپنے ملک میں دیکھتے ہیں تو یہاں شہروں میں اب بھی بہت بڑی تعداد کچرے کو کچرے دان میں ڈالنے کے حوالے سے ہی غافل نظر آتی ہے، بلکہ گنجان اور متوسط طبقے کے علاقوں میں تو کچرے کے حوالے سے شہری ایسے ایسے مظاہرے کرتے ہیں کہ جنھیں ضبط تحریر میں لانا بھی بہت تکلیف دہ محسوس ہوتا ہے۔ یہ تو ہوا عام کچرے کا ایک مرحلہ، لیکن آپ نے سوچا ہے کہ بڑے بڑے شہروں میں روزانہ ٹنوں کے حساب سے پیدا ہونے والا کچرا آخر جاتا کہاں ہے اور اسے کس طرح ٹھکانے لگایا جاتا ہے؟ تو ہمارے ہاں بدقسمتی سے آلودگی کے بڑھتے ہوئے مسئلے کے باوجود حکومتوں کی توجہ اس جانب کوئی بہت زیادہ نہیں رہی ہے، اگر ہم کراچی کی بات کریں تو ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور نایاب پانی کے بعد کوڑا کرکٹ اور گندگی بھی اس شہر کے چند نمایاں مسائل میں نظر آتی ہے۔
انتہا یہ ہے کہ صفائی ستھرائی کے خالص بلدیاتی مسئلے کو بھی صوبائی ادارے 'سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ' کے ماتحت کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے کچرے کو مختلف لینڈ فل سائٹ پر ڈھیر کیا جاتا ہے، لیکن ان بڑے بڑے انبار کو ٹھکانے لگانے کے لیے بھی باقاعدہ طور پر کوئی خاطر خواہ بندوبست نظر نہیں آتا۔ ماسوائے اس کے کہ اسے آگ لگا دی جائے اور جو کوڑا پڑے پڑے شاید اتنی آلودگی پیدا نہ کرے، جتنا اسے نذر آتش کرنے کے بعد فضائی آلودگی پیدا ہو جاتی ہے۔
دنیا کے بڑے شہروں میں کچرے کو باقاعدہ ٹھکانے لگانے کے لیے ری سائیکلنگ ہونا بہت پرانی بات ہو گئی، لیکن ہمارے ہاں اس جانب توجہ نہیں۔ مختلف ممالک میں اس کے لیے کوئی بہت بڑے بجٹ کی بھی ضرورت نہیں، بلکہ مختلف ادارے بہت سہولت سے یہ کام سر انجام دیتے ہیں، اس سے نہ صرف روزانہ کی بنیاد پر پیدا ہونے والا کچرا ٹھکانے لگ جاتا ہے، بلکہ ایک کار آمد شکل بھی اختیار کر جاتا ہے۔
حال ہی میں لاہور میں "لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی" نے محمود بوٹی ڈمپنگ سائٹ" پر جمع ہونے والے کچرے کو ماحول دوست طریقے سے تلف کرنے کے لیے اقدام کیا ہے، جس کے بعد اب اس کچرے سے نہ صرف تعفن کا خاتمہ ہونے کی امید ہے، بلکہ اس کچرے کی تہہ میں جمع ہونے والے پانی سے رساؤ کے باعث زیر زمین پانی کی آلودگی بھی تھم سکے گی۔ یہی نہیں بلکہ کچرے سے پیدا ہونے والی گیس کو، جو فضا میں پھیل کر مہلک کردار ادا کرتی ہے، اسے بھی باقاعدہ ایندھن کے طور پر کام میں لایا جا سکے گا۔
پاکستان کے بڑے شہروں میں کچرے کو باقاعدہ کام میں لینے کے باقاعدہ سلسلے موجود نہ ہونے کے باعث بہت سے غریب خانہ بدوش کچرا اٹھانے کا کام کرتے ہیں اور پلاسٹک، گتے اور کانچ کے مختلف ٹکڑے جمع کر کے بیچتے ہیں، لیکن حکومتی سطح پر اس حوالے سے مجموعی طور پر اتنی توجہ موجود نہیں ہے، جب کہ پاکستان آلودگی سے متاثر ہونے والے ممالک میں سرفہرست ہے، جس کی وجہ سے اسے کثیر الجہت مسائل کا سامنا ہے، کبھی بارشوں کی شدید کمی ہو جاتی ہے تو کبھی غیر معمولی برسات شدید نقصان پہنچاتی ہے۔
ایسے ہی پاکستان کے طول و عرض میں موسمی شدت اور تغیر بھی واضح طور پر نوٹ کیا جا رہا ہے۔ سمندری سطح کی بلندی سے پاکستان کی ساحلی پٹی بھی شدید مسائل سے دوچار ہو رہی ہے۔دوسری طرف ہر سال "سموگ" کے باقاعدہ طویل دورانیوں کے سلسلے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جو لوگوں کی صحت کو اتنا شدید متاثر کر رہے ہیں کہ ماہرین اس کے نتیجے میں متاثرہ علاقوں کی اوسط عمر میں کمی کا انتباہ کر رہے ہیں۔
انہی وجوہ کی بنا پر پاکستان میں اب موسمیاتی تبدیلی اور تغیرات کی باقاعدہ وزارت موجود ہے، لیکن افسوس ہمارے بڑے بڑے شہروں میں ابھی تک کچرے کو باقاعدہ ماحول دوست طریقے سے تلف کرنے اور اسے کار آمد کرنے کی طرف کوئی خاص توجہ موجود نہیں ہے۔پنجاب میں اس وقت موجودہ حکومت ویسٹ مینجمنٹ کے حوالے سے مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔ بڑے شہروں سے لے کر چھوٹے قصبوں تک میں صفائی کا باقاعدہ اہتمام کیا جا رہا ہے۔
صفائی کی آگاہی کے حوالے سے بھی بھر پوری کیمپین جاری ہے تاکہ شہری بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کریں۔کوڑا کرکٹ روزانہ کی بنیاد پر ماحولیاتی آلودگی کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے، حکومت نہ صرف اس طرف فوری توجہ دے، بلکہ گھروں سے کچرا اٹھانے کے لیے باقاعدہ پالیسی تشکیل دے، جس کے تحت مختلف طرح کے کچرے گھروں ہی سے الگ الگ تھیلوں میں ڈالے جائیں اور پھر انھیں زیادہ سہولت اور آسانی سے ری سائیکل یا تلف کیا جا سکے۔
نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بڑے شہروں میں کے حوالے سے جاتا ہے کچرے کو پیدا ہو کیا جا کے لیے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔