کراچی:

قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے شہر میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کیلیے کام کرنیوالے ملکی و غیر ملکی ایجنٹوں کی ممکنہ موجودگی کی اطلاع پر ان کی تلاش کیلیے اپنے نیٹ ورک کو ٹاسک دیدیا، یہ بات قانون نافذ کرنے والے ایک افسر نے بتائی. 

انھوں نے بتایا کہ کراچی میں افرا تفری پھیلانے اور دہشت گردی کی وارداتوں کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے لیے بھاری معاوضے کی لالچ دے کر سرکاری افسران اور ملک کی اہم شخصیات کی آمد و رفت کے بارے میں مخبری کرنے والے ایجنٹوں کی گرفتاری کیلیے اہم ٹاسک دیا گیا ہے.

انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں غربت اور بے روزگاری کے مسائل میں پھنسے نوجوان لڑکے ولڑکیوں کو بھاری معاوضے کے عوض نجی کمپنیاں بنا کر اس میں بھاری معاوضے پر نوکریاں دی گئیں ہیں. 

انھوں نے بتایا کہ را کے ایجنٹوں کی موجودگی کی اطلاع پر لیاری، کیماڑی ، بلدیہ ٹاؤن، جمشید روڈ ، جہانگیر روڈ ، گلشن اقبال ، ڈسٹرکٹ ملیر اور کورنگی کے بیشتر علاقوں میں انٹیلی جنس کا جال بچھا دیا گیا ہے جبکہ کلفٹن ، ڈیفنس سمیت دیگر پوش علاقوں میں اسٹیٹ ایجنٹوں کا ریکارڈ بھی چیک کیا جا رہا ہے کہ وہ کونسے ملکی و غیر ملکی افراد ہیں جو گزشتہ دنوں علاقوں میں شفٹ ہوئے ہیں. 

انھوں نے بتایا کہ شہر کی اہم تنصیبات اور اہم اشخصیات تک رسائی کے لیے را کی ایجنٹ خوبرو دوشیزاؤں کی خدمات بھی حاصل کی گئیں ہیں، خوبرو دوشیزاؤں میں بیشتر غیر ملکیوں کو استعمال کیے جانے کا خدشہ ہے. 

قانون نافذ کرنے والے ادارے نے شہریوں کو ہدایات دیں ہیں کہ کسی بھی نئے یا مشکوک شخص کی علاقے میں موجودگی کی اطلاع فوری طور پر رینجرز یا پولیس کو دیں جبکہ اسٹیٹ ایجنٹ کسی بھی شخص کو مکان ، فلیٹ یا پورشن کرائے پر دینے یا فروخت کرنے سے پہلے علاقہ پولیس کو ضرور آگاہ کریں، بغیر علاقہ پولیس کے اجازت نامے کے مکان ، فلیٹ یا دکان کرائے پر دینے یا فروخت کرنے والے کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ مشکوک افراد کی اطلاع دینے والے شخص کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایجنٹوں کی کرنے والے کی اطلاع

پڑھیں:

کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا

فائل فوٹو 

کراچی میں جیکسن کے علاقے میں بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا کے مطابق 6 سالہ بچی کی لاش آج دوپہر کو جیکسن کے علاقے سے ملی تھی، ملزم کی گرفتاری کے لیے جیسے ہی پولیس پہنچی، اُس نے پولیس پر فائرنگ کردی۔

ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ملزم ہلاک ہوگیا، جس کے پاس سے اسلحہ برآمد ہوا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کل دوپہر کو لاپتا ہوئی تھی، آج اس کی لاش ملی،  ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بھی بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا