وزیراعظم شہبازشریف کا ایرانی صدر کو ٹیلی فون، دھماکے میں ہلاکتوں پر اظہار افسوس
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے بندرعباس دھماکے کی شدید مذمت کی اور جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں قیامِ امن کے لیے ایران کے تعمیری اقدامات کا خیرمقدم کرتا ہے اور ہر طرح کی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے اور اس ناسور کے خلاف ہماری قربانیاں پوری دنیا کے سامنے ہیں۔ انہوں نے ایرانی صدر کو بھارت کی اشتعال انگیز کارروائیوں سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور کسی بھی قسم کی دہشت گردی یا اشتعال انگیزی کی حمایت نہیں کرتا۔
کراچی:موٹر سائیکل چوری میں ملوث پولیس اہلکار گرفتار
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بندرعباس دھماکے پر تعزیت کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور خطے میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
صدر مسعود نے وزیراعظم شہباز شریف کو دورۂ تہران کی دعوت دی جسے وزیراعظم نے خوش دلی سے قبول کرتے ہوئے ایرانی صدر کو بھی دورۂ پاکستان کی دعوت کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرتا رہے گا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف کہا کہ پاکستان ایرانی صدر
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔