پاکستان مشکل گھڑی میں برادر ملک ایران کے ساتھ کھڑاہے، وزیر اعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، شہباز شریف نے ایران کے شہر بندر عباس دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان مشکل گھڑی میں برادر ملک ایران کے ساتھ کھڑا ہے، ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔
خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق دھماکے کے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، فوری طور پر دھماکے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔
دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا، وزیراعظم نے پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی اشتعال انگیزیوں پر پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے،
خطے میں امن چاہتے ہیں، ایران بھی اس سلسلے میں کردار ادا کرنا چاہے تو خیر مقدم کریں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کا پہلگام حملے سے کوئی تعلق نہیں، پاکستان دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے، پاکستان پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے تیار ہے، پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول، پاکستان اپنے حق کا دفاع کرے گا، پاکستان ہمیشہ کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔
ایرانی صدر نے بندر عباس کے سانحے پر وزیر اعظم کے یکجہتی کے پیغام پر شکریہ ادا کرتے ہوئے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیر اعظم کو دورہ تہران کی دعوت بھی دی۔
خیال رہے کہ ایران کے شہر بندر عباس میں شہید رجائی پورٹ پر دھماکا ہوا، جس میں 5 افراد جاں بحق اور 700 سے زائد زخمی ہوگئے۔
ایرانی حکام کے مطابق دھماکے سے قریبی عمارتوں اور گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا، دھماکا ممکنہ طور پر کیمیکل کے گودام میں ہوا، فائر ٹینڈرز آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شہباز شریف ایران کے
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔