بھارت نے جارحیت کی تو قوم کا ہر فرد سپاہی بن کر لڑےگا، مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
بھارت نے جارحیت کی تو قوم کا ہر فرد سپاہی بن کر لڑےگا، مولانا فضل الرحمان WhatsAppFacebookTwitter 0 27 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اپنی سیاست میں کچھ مشکلات کا سامنا ہے، اسی لیے وہ کچھ کارڈز کھیلنا چاہتا ہے، لیکن پہلگام واقعے کا الزام پاکستان پر لگانے کو دنیا نے تسلیم نہیں کیا۔ بھارت نے اگر کوئی جارحیت کی تو قوم کا ہر فرد سپاہی بن کر لڑےگا۔
نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پہلگام واقعے کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہاکہ انڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف کیے گئے اقدامات کے جواب میں ہماری طرف سے بھی دوٹوک مؤقف اختیار کیا گیا جس سے قوم کو حوصلہ ملا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ ہم بھارت کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ ہم سر جھکا کر بیٹھ جائیں گے، اگر انڈیا نے کوئی جارحیت کی تو قوم کا ہر فرد سپاہی کا کردار ادا کرےگا۔
سربراہ جے یو آئی نے کہاکہ ہندوستان کو ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کرنا چاہیے تھا، لیکن اس نے انتہائی غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہاکہ گزشتہ الیکشن میں بھی مودی نے ہندوتوا کارڈ استعمال کیا، اس کے علاوہ آرٹیکل 370 ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہاکہ اسرائیل نے غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے، عالمی عدالت انصاف نے اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ جاری کیے، لیکن دنیا نوٹس ہی نہیں لے رہی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جمعیت علما اسلام اپنے پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی، پی ٹی آئی کے ساتھ اختلافات ختم کرنا چاہتے ہیں، اور دھیرے دھیرے قریب آرہے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارتی فوج کا کسانوں کو 48 گھنٹے میں سرحدوں پر موجود کھیت خالی کرنے کا حکم بھارتی فوج کا کسانوں کو 48 گھنٹے میں سرحدوں پر موجود کھیت خالی کرنے کا حکم پہلگام واقعے پر بھارت کی حقائق چھپانے کی ناکام کوشش پاناما اور نہرسویزسے امریکی جہازوں کومفت سفرکی اجازت ہونی چاہیے، ٹرمپ غزہ: حماس نے تمام قیدیوں کی رہائی، 5 سالہ جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کردی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، بچہ بچہ سرحد پر کٹ مرنے کو تیار ہے، شیخ وقاص اکرام اسحاق ڈار کے آذربائیجان، مصر اور ترکیہ کے ہم منصبوں سے ٹیلیفونک رابطےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان انہوں نے کہاکہ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔