کینیڈا کے انتخابات کی پولنگ 28 اپریل کو ہوگی لیکن 7.3 ملین کینیڈین ووٹرز پہلے ووٹ ڈالنے کی رعایت سے فائدہ اٹھا کر پہلے ہی ووٹ ڈال چکے ہیں۔

الیکشن کے بارے میں تازہ سروے اور پول یہ بتا رہے ہیں کہ لبرل اور کنزرویٹو پارٹیوں کے درمیان مقابلہ بہت سخت ہے اور لبرل 42 اور کنزرویٹو 39، 162 تا 204 نشستوں کے درمیان حاصل کرکے حکومت بنائے گی اور وزیراعظم مارک کارنی ہوں گے جکہ این ڈی پی نامی پارٹی کی نشستوں میں مزید کمی آئے گی۔

لبرل پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ایڈمُ وان کورڈین ( Adam Vankoeverden) نے جنگ/ دی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم جی 7 ملک کینیڈا میں تمام کینڈینز کی ترقی اور موقف کو اہمیت دیتے ہیں۔ تمام اقلیتوں بشمول پاکستانی کینیڈینز مساویانہ حقوق اور ترقی کے حق دار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے حلقے میں بہت سارے پاکستانی نہ صرف آباد بلکہ میرے سپورٹر ہیں اور اگر مجھے ہفتے کے چھ دن بھی بریانی اور مصالحے دار کھانے مل جائیں تو میں شوق سے کھالیتا ہوں۔

ایڈم وینکورڈ نے گزشتہ پانچ سال کے دوران رکن پارلیمٹ کے طور پر اپنی کارکردگی کے بارے میں بتایا کہ میرے حلقے کے ووٹرزمیرے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں۔ لبرل پارٹی کے پلیٹ فارم سے انتخاب جیت کر میں اپنا مشن اور ووٹرز کی خدمت جاری رکھوں گا۔

انہوں نے مسلم کمیونٹی کی جانب سے تمام پارٹیوں کے امیداروں کے درمیان ڈبیٹ میں بھی حصہ لیا۔

کینیڈین پارلیمنٹ کے لیے ٹورنٹو کے نواحی علاقے ملٹن کے انتخابی حلقہ سے لبرل پارٹی کی ایک اور خاتون امیدوار کرسٹینا ٹیسر ڈرکسن نے اپنے نئے انتخابی حلقہ میں اقلیتی طبقے کے ووٹرز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پاکستانی ووٹرزکی نہ صرف بڑی تعداد موجود ہے بلکہ انہوں نے سموسے، بریانی اور دیگر کھانوں کی بھی عادت ڈال دی۔

انہوں نے کہا کہ خواتین اس معاشرے میں برابر کا اہم رول رکھتی ہیں اور بطور اٹارنی میں اپنے ووٹرز کے حقوق کی حفاظت کا کام بھی انجام دوں گی۔

اپنے لیڈر مارک کرنی کے وزیراعظم بننے کے بارے میں ان کی خوبیوں اور معیشت کو بہتر بنانے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ بینکنگ کے ماہر ضرور ہیں لیکن معیشت کے دیگر پہلوؤں کو بہتر بنانے کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔

اسلام آباد میں کینڈین سفارتخانہ میں امیگریشن اور ویزہ کے لیے عملہ فراہم کرنے اورسیکشن قائم کرنے کے بارے میں تجویز کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں آگے بڑھ کر متعلقہ محکموں سے رابطہ قائم کرکے اس پروجیکٹ پر کام کریں گی۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے بارے میں لبرل پارٹی انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش