نئی دہلی (نیوز ڈیسک )بھارت کی خطے کے امن کو داؤ پر لگانے اور پاکستان کو اُکسانے کی کوشش۔ بھارتی بحریہ نے بحرِ عرب میں کئی اینٹی شپ میزائل داغنے کا دعویٰ کیا ہے۔ بھارتی سرکاری خبر رساں ایجنسی ”اے این آئی“ کے مطابق یہ میزائل تجربات بحریہ کی جنگی تیاریوں اور طویل فاصلے تک حملے کرنے کی صلاحیت دکھانے کے لیے کیے گئے ہیں۔خیال رہے کہ پہلگام حملے کے بعد پیدا ہونے والی پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں بھارت نے اپنے جنگی بحری جہاز بحیرہ عرب میں پاکستانی سرحدوں کے قریب پہنچا دئے ہیں۔
درحقیقت یہ کارروائیاں جنوبی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے اور خطے کے امن کو داؤ پر لگانے کی ایک کھلی کوشش دکھائی دیتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی بحریہ کی طرف سے داغے گئے میزائل دراصل پاکستان کو دباؤ میں لینے کی کوشش ہے، لیکن وہ بھول گیا ہے کہ یہ حرکت سوئے ہوئے شیر کو جگانے کے مترادف ہے۔پاکستان پہلے ہی دنیا کو یہ پیغام دے چکا ہے کہ ہم کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ اور کسی بھی طریقے سے اپنی فوجی قوت استعمال کر سکتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی یہ جنگی چالیں نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں بلکہ یہ خود بھارت کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی اور عدم تحفظ کا بھی ثبوت ہیں۔بحرِ عرب میں ان مشقوں کا انعقاد ایک ایسے وقت پر کیا گیا جب بھارت کے اندرونی حالات خود انتشار کا شکار ہیں اور مودی سرکار اپنی ناکام پالیسیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے بیرونی دشمنوں کا مصنوعی خوف پیدا کر رہی ہے۔
مزیدپڑھیں:پاک افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش ناکام، 54 خوارج ہلاک

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: خطے کے امن کی کوشش

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا