بھارت کا جنگی جنون عالمی امن کیلئے خطرناک ہے، راغب حسین نعیمی
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کا علماءکرام سے گفتگو میں کہنا تھا کہ مدارس دینیہ قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں، پوری پاکستانی قوم ملکی معاملات میں متحد ہے اور پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے اسلام ٹائمز۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹرراغب حسین نعیمی نے کہا ہے کہ بھارت کا جنگی جنون عالمی امن کیلئے خطرناک ہے، مدارس دینیہ قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں، پاکستانی قوم ملکی معاملات میں متحد ہے اور پاک فوج کیساتھ کھڑی ہے، پانی پاکستان کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اگر بھارت نے پانی روکنے کی کوشش کی تو اسے منہ توڑ جواب ملے گا۔ سندھ طاس معاہدہ کے تحت بھارت پاکستان کے حصے کا پانی روک ہی نہیں سکتا۔ پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں، 25 کروڑ پاکستانی عوام متحد اور اپنی مسلح افواج کیساتھ کھرے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ نعیمیہ میں علماء کرام کے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی طرف سے دریائے جہلم و چناب کا پانی روکنا اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا آبی دہشت گردی ہے۔ یہ اقدام مودی سرکار کو بہت مہنگا پڑے گا۔ انہوں ںے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ختم کرنا بھارت کیلئے اتنا آسان نہیں کیونکہ عالمی بینک اس معاہدے کا ثالث ہے اور پاکستان اس مسئلے کو بین الاقوامی عدالت میں بھی لے جا سکتا ہے۔ بھارت اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کیلئے پاکستان پر الزام لگا کر اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے دریائے جہلم میں پانی چھوڑنا بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی آبی جارحیت نہ صرف خطے میں قدرتی آفات کو جنم دے سکتی ہے، بلکہ معصوم جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ بدقسمتی سے بھارت میں برسراقتدار بی جے پی کی حکومت نے حالات خراب کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔