‘جب شاہ رُخ خان اور کاجول نے ٹیکسی ڈرائیور کو بتایا ’ہم شادی کرنے کیلئے گھر سے بھاگ رہے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
بالی ووڈ کی مشہور جوڑی شاہ رخ خان اور کاجول کی دوستی اور آن اسکرین کیمسٹری دنیا بھر میں مقبول ہے۔ فلموں جیسے ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘، ’بازی گر‘، ’کبھی خوشی کبھی غم‘ اور ’مائے نیم از خان‘ میں ان کی شاندار جوڑی نے کئی دہائیوں تک ناظرین کو متاثر کیا ہے۔
ان کی کیمسٹری اتنی حیرت انگیز ہے کہ اکثر شائقین کو یہ گمان کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ وہ حقیقی زندگی میں بھی ایک جوڑی ہیں، تاہم حقیقت میں دونوں کے درمیان صرف ایک دیرینہ اور خالص دوستی کا رشتہ ہے۔
حال ہی میں ایک پرانی ویڈیو منظرعام پر آئی ہے، جس میں دونوں فنکار نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں ’مائے نیم از خان‘ کی شوٹنگ سے بریک کے دوران ایک کار میں موجود ہیں۔ ویڈیو میں شاہ رخ خان نے کیمرے کی طرف دیکھ کر بات کرتے ہوئے ٹیکسی ڈرائیور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’یہ کاجول ہیں اور میرا نام خان ہے۔‘‘ اس پر ڈرائیور نے جواب دیا، ’’آپ دونوں شادی شدہ لگتے ہیں۔‘‘
ٹیکسی ڈرائیور کی اس بات پر شاہ رُخ نے اپنے روایتی مزاحیہ انداز میں کہا ’ہاں ہم شادی کرنے کیلئے گھر سے بھاگ رہے ہیں‘۔ اور اس جملے پر کاجول اور شاہ رُخ دونوں بے ساختہ ہنس پڑے۔
یاد رہے کہ شاہ رخ خان اپنی نئی فلم ’کنگ‘ پر کام شروع کرنے والے ہیں، جبکہ کاجول فلم ’سرزمین‘ میں نظر آئیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔