پاکستان کا دفاعی نظام مزید مضبوط، پاک فضائیہ میں طیاروں کی شمولیت
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
احمد منصور: پاکستان کی مسلح افواج نے ہمیشہ ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کو ثابت کیا ہے، پاکستان ایئر فورس جدید ٹیکنالوجی اور کثیرالجہتی صلاحیتوں کے ساتھ فضائی جنگ کی مضبوط قوت بن چکی ہے۔
جے-10سی اور جے ایف-17 بلاک تھری طیاروں کی شمولیت سے پاک فضائیہ کی حربی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا، پی ایل-15 میزائلوں کی موجودگی پاکستان کی فضائی برتری کو ناقابلِ تسخیر بناتی ہے، سیدو سے پسنی تک پاک فضائیہ 24 گھنٹے نگرانی اور فوری ردِعمل کی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
دو روز کے لئے جنگ بندی کا اعلان ک
جدید قیادت میں پاک فضائیہ میں اگلی نسل کی ٹیکنالوجیز کی تیز رفتار شمولیت کا عمل جاری ہے، ایڈوانسڈ ایریئل پلیٹ فارمز، ایچ آئی ایم اے ڈی سسٹمز، اور یو سی اے ویز آپریشنل ہو چکے ہیں۔
خلائی، سائبر، الیکٹرانک وار فیئر اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام پاک فضائیہ میں تیزی سے شامل کیے گئے، پاکستان ایئر فورس ملک کی خودمختاری کے تحفظ اور امن کے قیام کے عزم کو دہراتی ہے۔
بہادری، جدت اور غیر متزلزل عزم کی وراثت کے ساتھ پاک فضائیہ ہر چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔
دہشتگردوں کیجانب سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ عمل ہے؛ شیری رحمان
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔