وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سی سی آئی اجلاس میں صوبے کے حقوق کا کامیابی سے دفاع کیا، بیرسٹر سیف
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
ترجمان خیبرپختونخوا حکومت بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں صوبے کے حقوق کا کامیابی سے دفاع کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نیٹ ہائیڈل اور این ایف سی میں ضم اضلاع کا حصہ صوبے کا قانونی اور آئینی حق ہے، وزیراعلیٰ نے دونوں ایشوز پر کونسل کو اعتماد میں لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: صوبوں کی رضا مندی کے بغیر دریائے سندھ سے نہریں نہیں نکالی جائیں گی، مشترکہ مفادات کونسل کا فیصلہ
بیرسٹر سیف نے کہا کہ وفاق کو دونوں ایشوز پر خط لکھے گئے لیکن جواب تاحال موصول نہیں ہوا، اگلے سی سی آئی اجلاس میں دونوں معاملات ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔
انہوں نے کہا ہے کہ انضمام کے بعد ضم اضلاع کا حصہ خیبر پختونخوا کا قانونی و آئینی حق ہے، وفاق نے غیرقانونی اور غیرآئینی طور پر ضم اضلاع کا حصہ اپنے پاس رکھا، ان اضلاع کی ترقی خیبر پختونخوا کی اولین ترجیح ہے، وفاق اوچھے ہتھکنڈوں کے بجائے صوبے کی مدد کرے۔
یہ بھی پڑھیے: مشترکہ مفادات کونسل نے نئی نہروں کا منصوبہ مسترد کردیا، علی امین گنڈاپور
بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ ضم اضلاع میں ترقی کا جال بچھا کر دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے، وفاق اگر دہشت گردی کے معاملے میں سنجیدہ ہے تو ضم اضلاع کے فنڈز فوری جاری کرے، دہشت گردی صرف صوبے یا ضم اضلاع کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے، وفاق ضم اضلاع کے معاملے میں سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بیرسٹر سیف پانی کی تقسیم سی سی آئی مشترکہ مفادات کونسل نہروں کا تنازعہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیرسٹر سیف پانی کی تقسیم مشترکہ مفادات کونسل نہروں کا تنازعہ مشترکہ مفادات کونسل ضم اضلاع کا بیرسٹر سیف کا حصہ
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔