پاکستان ایئرفورس کا خوف؛ بھارتی رافیل طیارے بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر واپس فرار
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
اسلام آباد:پاکستان ایئرفورس کے خوف کا شکار بھارتی رافیل طیارے بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر واپس فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق 29 اور 30 اپریل کی شب بھارتی ائیر فورس کے 4 رافیل طیاروں نے بھارتی جغرافیائی حدود میں رہتے ہوئے مقبوضہ جموں کشمیر میں پیٹرولنگ کی۔
اس موقع پر پاکستان ائیر فورس کے طیاروں نے ہندوستانی ائیر فورس کے ان جنگی جہازوں کی فوراً نشان دہی کر لی۔ جس کے بعد پاکستانی ائیر فورس کی بروقت اور مستعد کارروائی پرانڈین رافیل طیارے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر راہ فرار اختیار کر گئے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی افواج ہندوستان کی طرف سے کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار اور مستعد ہیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ائیر فورس فورس کے کا شکار
پڑھیں:
اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کویت کے وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں خطے اور دنیا میں جاری بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔کویتی وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے پاکستان کے مسلسل مصالحتی کردار اور امریکہ و ایران کے درمیان روابط و مذاکرات میں سہولت کاری کی کوششوں کو سراہااور علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کی۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سفارتکاری اور مسلسل مذاکرات کو خطے میں پائیدار امن و استحکام کے حصول کا بہترین راستہ سمجھتا ہے اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔ دونوں جانب نے پاکستان اور کویت کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کی بھی توثیق کی اور آئندہ بھی قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ علاوہ ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے بیلجیم میں پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی نے ملاقات کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ نائب صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کے مثبت نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے سفیر کو ہدایت کی کہ وہ اس دورے کے دوران طے پانے والی مفاہمتوں پر عملدرآمد کی پیروی جاری رکھیں اور یورپی یونین کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کیلئے کوششیں تیز کریں۔