بھارتی جنرل کا بیان مودی سرکار کے فسطائی نظام کے منہ پر طمانچہ ہے: بیرسٹر سیف
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
---فائل فوٹو
مشیرِ اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ بھارتی جنرل کا بیان مودی سرکار کے فسطائی نظام کے منہ پر طمانچہ ہے۔
بیرسٹر سیف نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کے فالس فلیگ آپریشن کا بھانڈا خود اس کے جنرل نے پھوڑ دیا، نریندر مودی فالس فلیگ آپریشن کا دفاع کرنے میں ناکام ہوچکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے سول و ملٹری افسران فالس فلیگ آپریشنز کے گواہ بن رہے ہیں۔
کراچی مودی حکومت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے.
بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ بھارت، پاکستان میں ریاستی دہشتگردی میں ملوث ہے، بھارت کے ریاستی دہشتگردی کے ثبوت بھی موجود ہیں۔
یاد رہے کہ مودی حکومت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد پاکستان کے خلاف فوری طور پر مہم جوئی سے انکار کرنے والے بھارتی لیفٹیننٹ جنرل ایم وی سچندر کمار کو کمانڈر ناردرن کمانڈ کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق انہیں پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا تھا تاہم جنرل ایم وی ایس کمار نے مہم جوئی سے گریز کرنے کی پالیسی اپنالی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فالس فلیگ
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔