پہلگام فالس فلیگ ،بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کا بھارتی فوج کو جنگ کیلئے تیار رہنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
نئی دہلی (اوصاف نیوز)وزیر اعظم نریندر مودی نے متنازعہ ریاست جموں و کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کو ‘آپریشنل فریڈم کا حق دیدیا ہے کہ وہ جب چاہیں، جیسے چاہیں اور جہاں چاہیں کاروائیاں کر سکتے ہیں۔ نئی دہلی میں موجود حکومتی ذرائع نے عالمی ذرائع ابلاغ اے ایف پی کو بتایا ہے کہ فوج کو یہ اختیار پچھلے ہفتے کے حملے کے سلسلے میں دیا گیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان بھارتی الزام کی تردید کرتا ہے کہ وہ پہلگام کے واقعے میں ملوث ہے تاہم بھارت نے تحقیقات سے بھی پہلے پاکستان کے خلاف اقدامات شروع کردیئے ۔ ان اقدامات میں پاکستان کے ساتھ 1960ء کےآبی معاہدہ کو معطل کرکے پاکستان کا پانی بند کرنا اور سفارتی عملے میں کمی کرنا اور شہریوں کی آمد و رفت کو روکنا اور ویزوں کو منسوخ کردینے کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر پاکستانی پوسٹوں کر نشانہ بنانا شامل ہیں۔
ان بھارتی اقدامات کی وجہ سے دونوں جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کی فوجیں ہائی الرٹ پوزیشن پر چلی گئی ہیں اور دونوں طرف سے کہا جا رہا ہے کہ جنگ کسی بھی وقت چھڑ سکتی ہے۔ ادھر نئی دہلی میں وزیر اعظم مودی کی آرمی چیف سمیت تمام مسلح افواج کے سرابراہان سے ملاقات کی ویڈیو ذرائع ابلاغ کو جاری کی گئی جس میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ بھی نظر آرہے ہیں۔
بھارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم مودی نے ایک بند کمرے کے اجلاس میں افواج کو یہ اجازت دی ہے کہ انہیں آپریشنز کرنے کی مکمل آزادی ہوگی اور وہ ان آپریشن کے طریقہ کار، اہداف اور وقت کا بھی خود تعین کرسکیں گی۔ مودی نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ہمیں دہشتگردی کو ایک قومی حل کے طور پر ختم کرنا ہے۔ حکومت کے جن ذرائع نے اے ایف پی کو یہ بتایا انہوں نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔
خیال رہے کہ بھارت نے متنازع ریاست جموں و کشمیر میں چھ لاکھ کے قریب مسلح افواج کو تعینات کر رکھا ہے۔ یہ افواج 1989ء سے ان کشمیریوں کے خلاف آپریشن شروع کیے ہوئے ہیں جو 1947ء کے تقسیم ہند کے منصوبہ اور اقوام متحدہ کی قراداروں کے مطابق اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں لیکن بھارت ان کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔
اس حالیہ ایک ہفتہ کے دوران بھارتی سیکورٹی فورسز نے لگ بھگ دو ہزار کے قریب کشمیریوں کو زیر حراست لیا ہے اور جگہ جگہ کریک ڈاؤن جاری ہے جبکہ کئی گھروں کو جلانے، بارود سے اڑانے یا مسمار کرنے کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔
پہلگام واقعہ : سچ سامنے لانے پر سربراہ ناردرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل ایم وی ایس کمار برطرف
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔