نئی دہلی (اوصاف نیوز)وزیر اعظم نریندر مودی نے متنازعہ ریاست جموں و کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کو ‘آپریشنل فریڈم کا حق دیدیا ہے کہ وہ جب چاہیں، جیسے چاہیں اور جہاں چاہیں کاروائیاں کر سکتے ہیں۔ نئی دہلی میں موجود حکومتی ذرائع نے عالمی ذرائع ابلاغ اے ایف پی کو بتایا ہے کہ فوج کو یہ اختیار پچھلے ہفتے کے حملے کے سلسلے میں دیا گیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان بھارتی الزام کی تردید کرتا ہے کہ وہ پہلگام کے واقعے میں ملوث ہے تاہم بھارت نے تحقیقات سے بھی پہلے پاکستان کے خلاف اقدامات شروع کردیئے ۔ ان اقدامات میں پاکستان کے ساتھ 1960ء کےآبی معاہدہ کو معطل کرکے پاکستان کا پانی بند کرنا اور سفارتی عملے میں کمی کرنا اور شہریوں کی آمد و رفت کو روکنا اور ویزوں کو منسوخ کردینے کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر پاکستانی پوسٹوں کر نشانہ بنانا شامل ہیں۔

ان بھارتی اقدامات کی وجہ سے دونوں جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کی فوجیں ہائی الرٹ پوزیشن پر چلی گئی ہیں اور دونوں طرف سے کہا جا رہا ہے کہ جنگ کسی بھی وقت چھڑ سکتی ہے۔ ادھر نئی دہلی میں وزیر اعظم مودی کی آرمی چیف سمیت تمام مسلح افواج کے سرابراہان سے ملاقات کی ویڈیو ذرائع ابلاغ کو جاری کی گئی جس میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ بھی نظر آرہے ہیں۔

بھارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم مودی نے ایک بند کمرے کے اجلاس میں افواج کو یہ اجازت دی ہے کہ انہیں آپریشنز کرنے کی مکمل آزادی ہوگی اور وہ ان آپریشن کے طریقہ کار، اہداف اور وقت کا بھی خود تعین کرسکیں گی۔ مودی نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ہمیں دہشتگردی کو ایک قومی حل کے طور پر ختم کرنا ہے۔ حکومت کے جن ذرائع نے اے ایف پی کو یہ بتایا انہوں نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔

خیال رہے کہ بھارت نے متنازع ریاست جموں و کشمیر میں چھ لاکھ کے قریب مسلح افواج کو تعینات کر رکھا ہے۔ یہ افواج 1989ء سے ان کشمیریوں کے خلاف آپریشن شروع کیے ہوئے ہیں جو 1947ء کے تقسیم ہند کے منصوبہ اور اقوام متحدہ کی قراداروں کے مطابق اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں لیکن بھارت ان کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔

اس حالیہ ایک ہفتہ کے دوران بھارتی سیکورٹی فورسز نے لگ بھگ دو ہزار کے قریب کشمیریوں کو زیر حراست لیا ہے اور جگہ جگہ کریک ڈاؤن جاری ہے جبکہ کئی گھروں کو جلانے، بارود سے اڑانے یا مسمار کرنے کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔
پہلگام واقعہ : سچ سامنے لانے پر سربراہ ناردرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل ایم وی ایس کمار برطرف

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔

بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات

منگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔

میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائی

سابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواست

ممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘  نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مجھے سب کچھ معلوم ہے

اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد