پہلگام فالس فلیگ؛ عالمی میڈیا نے بھارت میں بڑھتی مسلم دشمنی کا پردہ چاک کردیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے پہلگام فالس فلیگ کے بعد بھارت میں حکومتی آشیرباد سے تیزی سے بڑھتی ہوئی مسلم دشمنی کا پردہ چاک کردیا۔
بھارت میں تیزی کے ساتھ بڑھتی ہوئی مسلم دشمنی اور مودی سرکار کی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز پالیسیوں پر علمی میڈیا نے بھی اپنی رپورٹس میں چشم کا انکشافات کیے ہیں۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق بی جے پی رہنماؤں کی ایما پر بھارت کے مختلف حصوں میں مسلمانوں پر تشدد کی نئی لہر دیکھی جا رہی ہے۔ خاص طور پر اتر پردیش، ہریانہ اور مہاراشٹرا میں مسلمانوں پر حملوں اور دھمکیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب عالمی میڈیا نے بھی اپنی رپورٹس میں انکشاف کیا ہے کہ مودی حکومت کی مسلم دشمنی کی انتہا یہ ہے کہ بھارتی ڈیجیٹل میڈیا نے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پہلگام حملے کے بعد بھارت میں 20 نفرت انگیز اسلاموفوبک گانے ریلیز کیے گئے ہیں، جن میں مسلمانوں کے خلاف تعصب بھڑکایا گیا۔
اسی طرح بی جے پی رہنما نیتیش رانے کی طرف سے مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ کی اشتعال انگیز اپیل بھی کی گئی ہے جو کہ کشمیری مسلمانوں پر حملوں اور بھارت بھر میں 21 سے زائد مسلم مخالف تشدد کے واقعات کے بعد سامنے آئی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق حملے کے بعد بھارت میں مسلمان مریضوں کا علاج روکنے اور طلبا پر تشدد کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
واشنگٹن ڈی سی کے مرکز برائے مطالعۂ منظم نفرت کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلم دشمنی میں شدید اضافہ ہو چکا ہے اور مودی حکومت مسلمانوں کے خلاف نفرت بھڑکا کر سیاسی مقاصد حاصل کر رہی ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی ہندو مسلم فسادات کو ہوا دے کر خطے میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ صورت حال بھارت میں مسلمانوں کی زندگی کو مزید مشکل بنا رہی ہے جب کہ عالمی سطح پر مودی کی مسلم دشمن پالیسیوں کی مذمت ہو رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مسلمانوں کے خلاف بھارت میں میڈیا نے رہی ہے کے بعد
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔