اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )قومی سلامتی کے سابق مشیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ کا کہنا ہے کہ روایتی جنگ کی صلاحیت جوہری صلاحیت سے جڑی ہوئی ہے۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے قومی سلامتی کے سابق مشیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ کا کہنا تھاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور اگربند نہیں ہے تو پھر مکمل تباہی ہوگی۔
ناصر جنجوعہ کا کہنا تھاکہ روایتی جنگ کی صلاحیت جوہری صلاحیت سے جڑی ہوئی ہے، ہم اپنے ملک کا بہت اچھے طریقے سے دفاع کر سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اپنی ناکامی کو جوہری جنگ تک لے جانا اچھی سوچ اور اچھی قیادت کی علامت نہیں ہے، بھارت اپنی ناکامی پاکستان پر ڈالنے کے بجائے پہلگام واقعے کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لائے۔

جنوبی وزیرستان: امن کمیٹی دفتر کے قریب دھماکے کے 3 زخمی دم توڑگئے، اموات 12 ہوگئیں

مزید :.

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

غزہ میں جنگ بندی کیلئے کوششوں میں معمولی پیشرفت ہوئی ہے، قطری وزیراعظم

DOHA:

قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے کہا ہے کہ غزہ میں نئی جنگ بندی کی کوششوں میں معمولی پیش رفت ہوئی ہے لیکن اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ بدستور غیرواضح ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے کہا کہ ہم نے گزشتہ ہونے والی ملاقاتوں کے مقابلے میں آخری ملاقات میں معمولی پیش رفت دیکھی ہے لیکن ابھی ہمیں اس حوالے سے حتمی فیصلے تک پہنچنا ہے کہ جنگ کا خاتمہ کیسے ہو کیونکہ یہی پورے مذاکرات کا بنیادی نکتہ ہے۔

قطری وزیراعظم نے حالیہ مذاکرات میں کن پہلوؤں پر پیش رفت ہوئی ہے، اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا لیکن ان کا کہنا تھا کہ حماس اور اسرائیل دونوں کے درمیان مذاکرات کے اصل مقصد پر بدستور اختلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ حماس تمام اسرائیلی قیدیوں کو واپس کرنے کے لیے تیار ہے اگر اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ ختم کردی جائے لیکن اسرائیل چاہتا ہے کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق بغیر کسی وضاحت کے حماس تمام قیدیوں کو رہا کردے۔

قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان نے دوحہ میں ترک وزیرخارجہ ہاکان فیدان کے ہمرہ پریس کانفرنس میں کہا کہ جب فریقین کے درمیان مشترکہ اہداف اور مقاصد نہ ہو تو پھر کامیابی کے مواقع بہت کم ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ قطر، مصر اور امریکا کی ثالثی میں دونوں فریقین کے درمیان رواں برس 19 جنوری سے 17 مارچ تک جنگ بندی ہوئی تھی اور اسرائیل کے 33 قیدیوں کو رہا کردیا گیا، جن میں ہلاک ہونے والے 8 افراد بھی شامل تھے، اس کے بدلے میں اسرائیل نے ایک ہزار 800 فلسطینیوں کو اپنی جیلوں سے رہا کردیا تھا۔

غزہ کی وزارت صحت کے اعداد وشمار کے مطابق اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں میں 18 مارچ سے اب تک دو ہزار 62 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ شہید فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 51 ہزار 439 سے تجاوز کرگئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات اور آئی ایل او کے تحت کانفرنس یکم مئی کو ہوگی، شوکت عزیز صدیقی
  • بھارت کے پاس پانی ذخیرہ کرنے نہ دریاؤں کا رخ موڑنےکی صلاحیت ہے، ششی تھرور
  • بھارت کے جارحانہ اقدامات خطے کو تباہی سے دوچار کر سکتے ہیں ،صورتحال کو پیچیدہ کر دیا ، اسحاق ڈار
  • سعودی عرب کی بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش، فریقین کو تحمل اور سفارتی حل کی دعوت
  • اگر پاک بھارت جنگ ہوئی تو کیا ہوگا؟ لیفٹیننٹ جنرل( ر)ناصر جنجوعہ کی خوفناک پیشگوئی
  • روس یوکرین کے درمیان فائربندی نہ ہوئی تو تنازع ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے.جے ڈی وینس
  • حج آپریشن کے انتظامات مکمل، پہلی پرواز کل روانہ ہوگی
  • غزہ میں جنگ بندی کیلئے کوششوں میں معمولی پیشرفت ہوئی ہے، قطری وزیراعظم
  • اسرائیل کو تسلیم کرنے کی جرأت ہوئی تو اینٹ سے اینٹ بجادیں گے، عبدالغفور حیدری