اسلام آباد:

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے  کہا کہ آج کا دن پورے ملک کے لیے ایک اہم معاملہ تھا جبکہ کینالز کے معاملے پر سندھ میں کافی اضطراب پایا جاتا تھا تاہم آج یہ مسئلہ ختم ہوگیا۔

مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ کینال کے معاملے پر سندھ کے عوام میں کافی اضطراب پایا جاتا تھا تاہم آج کے فیصلے پر سندھ کے عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ 

مراد علی شاہ نے وزیر اعظم شہباز شریف اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس اہم معاملے کی نزاکت کو سمجھا اور مثبت کردار ادا کیا۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ نگران دور حکومت میں منظور ہونے والے اس متنازع منصوبے کے خلاف سندھ حکومت نے بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کے اعتراضات کی وجہ سے منصوبے کی ایکنک سے منظوری چار مرتبہ مؤخر کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے پر اب تک ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بعض حلقوں کی جانب سے کہا جا رہا تھا کہ صوبے منصوبے کی منسوخی پر راضی نہیں ہوں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔

 مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ سی سی آئی (کونسل آف کامن انٹرسٹ) کا فیصلہ ہے کہ اتفاق رائے کے بغیر کوئی نئی نہر نہیں نکالی جائے گی، سات فروری کو ایکنک کی جانب سے دی گئی عارضی منظوری کو بھی واپس لینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہروں کے معاملے پر بہت زیادہ پروپیگنڈا کیا گیا، حتیٰ کہ سابق صدر آصف علی زرداری کو بھی بدنام کرنے اور سندھ میں عوام کو اس معاملے پر ورغلانے اور گمراہ کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان مراد علی شاہ نے معاملے پر کہا کہ

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا