اسحاق ڈار نے امریکی ناظم الامور اور ہسپانوی وزیرخارجہ کو بھارت کے غیرقانونی اقدامات سے آگاہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے امریکا کی ناظم الامور نیٹلی بیکر ہسپانوی وزیرخارجہ ہوزے مینویل البریز سے رابطوں کے دوران انہیں خطے کی صورتحال اور بھارت کی جانب سے کیے جانے والے غیرقانونی اقدامات سے آگاہ کیا،۔
محمد اسحاق ڈار سے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے بدھ کو ملاقات کی اور حالیہ علاقائی پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے علاقائی امن اور سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
دریں اثنا نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے اسپین کے وزیر خارجہ و یورپی یونین و تعاون کے وزیر ہوزے مینویل البریز سے رابطہ کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ نائب وزیراعظم نے اسپین کے وزیرخارجہ کو حالیہ علاقائی پیشرفت سے آگاہ کیا۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ بھارتی پروپیگنڈا اور پاکستان کے خلاف غیر قانونی یکطرفہ اقدامات اور سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنا بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔
اسحاق ڈار نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے آزاد اور شفاف تحقیقات کے لیے پاکستان کی تیاری سے بھی آگاہ کیا۔
ہسپانوی وزیر خارجہ نے معاملے کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی خواہش کو سراہتے ہوئے شفاف تحقیقات کے لیے اس کی تجویز کا خیرمقدم کیا۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اور کثیرالجہتی دونوں فورمز پر تعاون کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر بھارت پاک بھارت کشیدگی پاکستان پہلگام فالس فلیگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر بھارت پاک بھارت کشیدگی پاکستان پہلگام فالس فلیگ کی ناظم الامور کے لیے پاکستان اسحاق ڈار نے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔