اسرائیل میں مقبوضہ یروشلم کے گردو نواح میں متعدد مقامات پر ہونے والی آتشزدگی نے دیکھتے ہی دیکھتے کئی قصبوں کو لپیٹ میں لے لیا ہے  جس کے بعد اسرائیل نے آگ بجھانے کے لیے بین الاقوامی امداد کی اپیل کردی ہے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق یہ آگ اسرائیل کی تاریخ کی سب سے بڑی آتشزدگی  ہے جس کے بعد تل ابیب اور یروشلم کے درمیان مرکزی ہائی وے کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: لاس اینجلس آتشزدگی: ہلاکتوں میں اضافہ، اگلے ہفتے مزید تباہی کی پیش گوئی

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق آتشزدگی پر قابو پانے کے لیے اسرائیلی حکومت نے گریس، کروشیااوراٹلی سے آگ بجھانے والے خصوصی طیارے فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔  آگ لگنے کی بنیادی وجہ کا ابھی تعین نہ ہوسکا ہے تاہم حکام ہیٹ ویو اور علاقے میں چلنے والی تیز ہواؤں کو اس کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔

آتشزدگی کے بعد متاثرہ علاقوں سے شہریوں کے انخلا کا عمل جاری ہے اور اب تک کئی آبادیوں کو خالی کروایا گیا ہے۔ آتشزدگی سے جڑے حادثات میں اب تک 24 افراد بھی  زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیل کے وزیردفاع نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے فوج کو آگ بجھانے کے آپریشن میں کردار ادا کرنے کی ہدایت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

israel fire آتشزدگی آگ اسرائیل جنگلی آگ یروشلم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آتشزدگی اسرائیل جنگلی آگ کے لیے

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم