جب بھی کہیں کوئی مچھر مارا جاتا ہے، بھارت فوراً انگلی پاکستان کی طرف اٹھا دیتا ہے۔ جیسے مچھر بھی ISI کے ایجنٹ ہوں اور ہر ‘بھنبھناہٹ’ کسی سازش کا کوڈ ہو۔
بھارت کا میڈیا ایسا شور مچاتا ہے جیسے کشمیر فتح کرلیا ہو، حالانکہ سچ یہ ہے کہ اکثر تو ان کی خبریں فلموں کے اسکرپٹ لگتی ہیں، جس کا ہیرو ہمیشہ ‘را’ ہوتا ہے!
یہ وہی میڈیا ہے جس کے ایک مشہور اینکر نے کہا تھا کہ ‘ہم نے چائے کے کپ میں سرجیکل اسٹرائیک کردی!’ مطلب نہ چائے ٹھنڈی ہونے دی، نہ عقل گرم!
پاکستان ایک عرصے سے امن کی بات کر رہا ہے، لیکن بھارت ہمیشہ جنگ کی ‘بھن بھن’ سناتا رہتا ہے۔ محاورہ ہے: ‘اونٹ کے منہ میں زیرہ’ – لیکن یہاں تو بھارتی جنگی جنون کو دیکھ کر کہنا پڑتا ہے: ‘چوہا شیر کو للکارے، وہ بھی لنگوٹ کس کے!’
بھارت نے اب تو عالمی سطح پر بھی اپنی ’بھڑکوں‘ کا مظاہرہ شروع کر دیا ہے۔ کینیڈا ناراض، برطانیہ بدگمان اور امریکہ نے تو مودی جی کے داخلے پر کبھی پابندی لگا دی تھی۔
مطلب’ نہ خدا ہی ملا، نہ وصال صنم!’– دنیا کی عدالت میں بھارت کا رویہ ایسا ہے جیسے ‘اونٹ رے اونٹ، تیری کون سی کل سیدھی؟’
اور بھارت کا رویہ پاکستان کے خلاف ایسا ہے جیسے ‘کھسیانی بلی کھمبا نوچے!’۔ جب اپنے ملک میں کچھ قابو میں نہ آئے، تو بس الزام پاکستان پر – چاہے وہ بارش ہو، بجلی جائے، یا کسی فلم کا فلاپ ہونا!
اسی لیے پاکستانی عوام کا ردعمل بھی بڑا دلچسپ ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسا طنز ہوتا ہے کہ ‘مرچیں تو بھارت میں لگتی ہیں، دھواں لاہور سے اٹھتا ہے!’۔ پاکستانی نوجوانوں کا کمنٹ سیکشن بھارتی میڈیا کے لیے اب ‘کند ذہنوں کی جلی کتاب’ بن چکا ہے۔ ہر لائن میں ایسا طنز چھپا ہوتا ہے کہ گودی میڈیا کو ‘ٹاپی’ لگ جائے۔
بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی چائے بھی اب ایک عالمی محاورہ بن چکی ہے: ‘چائے کی پیالی میں طوفان’ – اور وہ بھی ایسا کہ پائلٹ کا ناک ہی سوج گیا۔
آخر میں یہی کہنا کافی ہوگا کہ:
‘بھارت کی بھڑکیں ایسی ہیں جیسے مچھلی پانی سے لڑائی کرے!’ اور ‘پاکستان کا جواب ایسا ہوتا ہے جیسے شیر نیند سے اٹھے’ٌ!
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
میکسیکو کی معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر پاؤلا مارکیز اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائی گئی ہیں، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 سالہ پاؤلا مارکیز کی لاش 30 مئی کو ان کے گھر کے اندر سے اس وقت برآمد ہوئی جب ایک اہلِ خانہ نے انہیں بے ہوش حالت میں پایا۔ بعد ازاں طبی عملے نے موقع پر ہی ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
ابتدائی تحقیقات میں پولیس مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے جن میں خودکشی اور ممکنہ قتل دونوں امکانات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے تمام شواہد کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاؤلا مارکیز سوشل میڈیا پر خاصی مقبول تھیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر ان کے فالوورز کی تعداد 20 لاکھ سے زائد تھی۔ وہ زیادہ تر لائف اسٹائل، سفر اور پرتعیش زندگی سے متعلق مواد شیئر کرتی تھیں۔
ان کی ایک حالیہ ٹک ٹاک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے اپنی زندگی سے متعلق مایوس کن انداز میں گفتگو کی تھی۔ ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے جو کچھ چاہا وہ مانگا، لیکن شاید الٹا مانگا، کیونکہ جو تھوڑا بہت میرے پاس تھا وہ بھی ہاتھ سے نکل رہا ہے۔‘‘
افسوسناک خبر کے بعد ان کے والد ہیرکولیس مارکیز بالڈیرس نے فیس بک پر جذباتی پیغام میں اپنی بیٹی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ان کی ’’پیارا بیٹی پاؤلا اب اس دنیا میں نہیں رہی‘‘ اور وہ دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں بہترین مقام عطا کرے۔
والد کی پوسٹ پر صارفین کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ بھی جاری رہا، جہاں مداحوں اور قریبی افراد نے اہلِ خانہ سے ہمدردی اور صبر کی دعا کی۔ بعد ازاں اہلِ خانہ نے تصدیق کی کہ پاؤلا مارکیز کی آخری رسومات یکم جون کو سان لوئیس پوٹوسی کے علاقے ہویچی ہوان میں ادا کی گئیں۔
پاؤلا مارکیز نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹوں میں دنیا بھر کے سفر، لگژری ٹرپس اور ایونٹس کی جھلکیاں شیئر کرکے بڑی شہرت حاصل کی تھی۔ ان کے انسٹاگرام بائیو میں درج ایک جملہ ’’انسٹاگرام اصل زندگی نہیں ہے‘‘ بھی ان کی سوچ کی عکاسی کرتا تھا۔