Islam Times:
2026-06-03@03:46:56 GMT

خوشحالی کے بغیر عظیم انسان

اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT

خوشحالی کے بغیر عظیم انسان

اسلام ٹائمز: بھلا کوئی اندازہ کرے، اُس شخص کی مشکلات کا کہ جو دِل و جان سے محنت کرتا ہے، لیکن اسکی محنت کا کوئی حقیقی بدلہ اُسے نہیں ملتا۔ جو اپنی ساری جسمانی قوت و توانائی اپنی مزدوری میں صرف کر دیتا ہے، لیکن وہ سکون سے نہیں جیتا۔ اسکی روزانہ کی جدوجہد اُسکی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں کر پاتی۔ وہ زمین سے رزق کماتا ہے، لیکن اپنی روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے بھی اسے زندگی کے ہر پہلو میں قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ ہمارے عہد کا یہ نوحہ ہے کہ یہاں سچائی اور ایمانداری سے محنت کرنیوالا کبھی اپنے پیٹ کی آگ کو پوری طرح نہیں بجھا پاتا، وہ ایک عظیم انسان ضرور ہوتا ہے، لیکن خوشحال انسان نہیں بن پاتا۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیئے کہ ہمارے دین، تہذیب اور سماج میں محنت کرنیوالا ایک عظیم شخص تو ہے، لیکن وہ خوشحال کیوں نہیں ہوتا۔؟ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی

مزدور صرف وہ شخص نہیں، جو بھٹوں پر اینٹیں اٹھاتا ہے، فیکٹریوں میں مشینوں کے شور میں اپنی سانسیں گنواتا ہے، یا پھر نمک کی کانوں میں دب کر مر جاتا ہے بلکہ  ہر وہ شخص مزدور ہے، جو اس ملک میں دن بھر محنت کرتا ہے اور رات کو اس امید کے سائے میں سوتا ہے کہ شاید کل کچھ بدلے گا، لیکن اگلی صبح پھر اُس کیلئے کچھ نہیں بدلتا۔ وہ صرف پانی، گیس اور بجلی کے بِل ادا کرنے کیلئے پیدا ہوتا ہے اور اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلوائے بغیر ہی مر جاتا ہے۔ جس روز وہ اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر قہوہ پی لے، وہ دِن اس کیلئے عید کا دن ہوتا ہے۔ وہ کبھی چھٹی نہیں کرسکتا، چونکہ چھٹی کرے گا تو کھائے گا کہاں سے۔؟ مزدور یہ سمجھتا ہے کہ دنیا کی تاریخ محض بادشاہوں، طاقتوروں، اشرافیہ اور زورآوروں نے مرتب کی ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ تہذیب و تمدّن کی تاریخ صرف جنگوں اور معاہدوں کا نتیجہ نہیں، بلکہ وہ  مزدور کے خون پسینے کا شہکار ہے۔

یہ مزدور ہی ہیں کہ جنہوں نے تہذیبوں کو اٹھایا، سلطنتوں کو سجایا، مگر تاریخ نے ان کے نام صفحۂ حیات پر رقم نہ کیے۔ یومِ مزدور دراصل انہی مزدوروں کے اُسی انمٹ کردار کی بازگشت ہے، جسے طاقِ نسیاں میں رکھ دیا گیا ہے۔ یہ دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ انصاف تب قائم ہوتا ہے، جب برابر کو برابر سمجھا جائے، لیکن ہمارے ہاں مزدور نہ برابر ہے اور نہ اُسے اپنے برابر سمجھا جاتا ہے، وہ ہر روز صرف ایک ٹشو پیپر کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ انگریزی صنعتی انقلاب کے دوران جب کارخانوں نے زمین پر خطرناک دھواں اور آسمان پر زہریلا سایہ پھیلایا تو انسان بھی ایک مشین کا پرزہ بن کر رہ گیا۔ یہ انسانی تاریخ کا ایک بہت بڑا المیّہ ہے کہ اُس وقت انسان کی قیمت ایک مشین جتنی بھی نہیں بلکہ کسی مشین کے ایک پُرزے جتنی طے کر دی گئی تھی۔ 1886ء کا شکاگو ہمیں اسی المیّے کی یاد دلاتا ہے۔ تاریخ کے اس موڑ پر انسان اتنا بے بس ہوگیا تھا کہ مزدوروں نے صرف آٹھ گھنٹے کے کام کا مطالبہ کیا اور ریاست نے گولیوں سے اُن کا سینہ چیر دیا۔

یہ دن اُن دِنوں میں سے ایک ہے کہ جب ریاست یہ بھول گئی تھی کہ وہ ایک ماں ہے۔ اُس کے بعد جو احتجاج ہوا، وہ محض ایک احتجاج نہیں تھا بلکہ یہ ایک عہدِ نو کا آغاز تھا۔ اس عہدِ نو میں مقتدر اشرافیہ نے یہ تسلیم کیا کہ مزدور کو ہر حال میں اس کی محنت کا مکمل صلہ ملنا چاہیئے اور اُس کا صلہ فقط دو وقت کی روٹی و روزی تک محدود نہیں بلکہ یہ صلہ معیاری اجرت، عزّت، سہولت اور مساوات کی صورت میں مزدور کا انسانی حق ہے۔ اگرچہ آج تک دنیا بھر میں مزدور کا حال اُس مٹی کی مانند ہے، جو کھیت کو سبزہ دیتی ہے، مگر خود خشک رہتی ہے۔ مزدور بیمار ہو تو دوا نایاب، وہ زخمی ہو تو معاوضہ ندارد اور اگر اُس کے آنگن میں بچہ پیدا ہو تو تعلیم کے دروازے بند۔ دوسری طرف اشرافیہ کے بچوں کے لیے اوکسفورڈ اور ہاورڈ کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ آج مزدور صرف معاشی غلام نہیں بلکہ علمی اور فکری غلامی میں بھی گرفتار ہے۔

اُس کے بچوں کو سوچنے، سوال کرنے اور شعور حاصل کرنے سے پہلے ہی افلاس کی سولی پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ مزدور کو غربت کی صلیب سے اُتارنا تبھی ممکن ہے کہ جب اُسے اُس کا جائز مقام دیا جائے اور یہ تبھی ہوسکتا ہے کہ جب تعلیم، انصاف، صحت اور ترقی کو خاندانی وراثت نہیں، انسانی حق سمجھا جائے۔ وہ مزدور جو آج کے دور میں معاشی غلام بن چکا ہے، وہ کوئی اور نہیں بلکہ ہم میں سے ہر وہ شخص ہے، جس کی محنت کبھی اس کا پیٹ نہیں بھرتی، جس کے ہاتھوں کی سختی اور جسم کی تھکاوٹ کا بدلہ اُسے معیاری زندگی کی صورت میں نہیں ملتا۔ وہ اپنی روزمرہ کی جدوجہد میں دن رات ایک کرتا ہے، مگر اُسے اُجرت شکریے کے بجائے  یوں دی جاتی ہے کہ جیسے اُس پر کوئی  احسان کیا جا رہا ہو۔ وہ مسلسل دوڑتا ہے، کولہو کے بیل کی مانند، لیکن پھر بھی اس کے ہاتھ خالی رہ جاتے ہیں اور اس کی زندگی میں خوشحالی کا تصور محض ایک خواب ہوتا ہے۔

بھلا کوئی اندازہ کرے، اُس شخص کی مشکلات کا کہ جو دِل و جان سے محنت کرتا ہے، لیکن اس کی محنت کا کوئی حقیقی بدلہ اُسے نہیں ملتا۔ جو اپنی ساری جسمانی قوت و توانائی اپنی مزدوری میں صرف کر دیتا ہے، لیکن وہ سکون سے نہیں جیتا۔ اس کی روزانہ کی جدوجہد اُس کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں کر پاتی۔ وہ زمین سے رزق کماتا ہے، لیکن اپنی روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بھی اسے زندگی کے ہر پہلو میں قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ ہمارے عہد کا یہ نوحہ ہے کہ یہاں   سچائی اور ایمانداری سے محنت کرنے والا کبھی اپنے پیٹ کی آگ کو پوری طرح نہیں بجھا پاتا، وہ ایک عظیم انسان ضرور ہوتا ہے، لیکن خوشحال انسان نہیں بن پاتا۔ہمیں یہ سوچنا چاہیئے کہ ہمارے دین، تہذیب اور سماج میں محنت کرنے والا ایک عظیم شخص تو ہے، لیکن وہ خوشحال کیوں نہیں ہوتا۔؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ ایک عظیم کرتا ہے سے نہیں لیکن وہ ہوتا ہے جاتا ہے کی محنت بھی اس

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود