پالیسی ریٹ میں کمی نہ کرکے اسٹیٹ بینک نے بزنس کمیونٹی کی امیدوں پر پانی پھیر دیا، احمد عظیم علوی
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صدر احمد عظیم علوی نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی بینک نے پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ میں لانے کے بزنس کمیونٹی کے دیرینہ مطالبے کو نظر انداز کرکے تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ جب ملک میں مہنگائی کی شرح میں واضح کمی واقع ہوئی ہے تو ایسے میں پالیسی ریٹ میں کمی نہ کرنا باعثِ تشویش ہے۔ انہوں نے وزیرِ خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے کی ٹھوس وجوہات قوم کے سامنے لائیں اور بزنس کمیونٹی کو اعتماد میں لیں۔احمد عظیم علوی نے مزید کہا کہ پاکستان کو معرکہ حق میں فتح کے بعد عالمی سطح پر اچھے سگنل مل رہے ہیں اور ملک کامیابی کی جانب بڑھ رہا ہے ایسے میں یہ فیصلہ غیر موزوں اور ترقی کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساری قوم اس وقت یکجہتی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور یہ وقت ہے کہ معاشی میدان میں کامیابیاں سمیٹی جائیں۔
آسٹریلیا کا 16سال سے کم عمربچوں پر یوٹیوب کے استعمال پر پابندی کا اعلان
انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی طویل عرصے سے یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ، یعنی5 سے6 فیصد تک لایا جائے تاکہ کاروباری سرگرمیوں میں بہتری آئے، سرمایہ کاری بڑھے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں لیکن 11 فیصد شرح سود برقرار رکھ کر سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کو مایوس کیا گیا۔احمد عظیم علوی نے امید ظاہر کی کہ حکومت، وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے بزنس کمیونٹی کو اعتماد میں لیں گے اور معیشت کی بحالی کے لیے مثبت اقدامات کریں گے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: احمد عظیم علوی بزنس کمیونٹی اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ
پڑھیں:
غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی WhatsAppFacebookX 0 24 July, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائر کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔
کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائر کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے،
آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔
اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرجارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد پاکستان اور آذربائیجان نے دیرینہ دوستی مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کردیا کیوبا کے سفارتخانے میں فوٹو نمائش کے ذریعے فیڈل کاسترو کی صد سالہ تقریبات کا انعقاد چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنے پر اسحاق ڈار کا اظہارِ تشکر برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریبCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم