سابق امریکی صدر بارک حسین اوباما کی اہلیہ مشیل اوباما نے 2009 سے 2017 درمیان نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے والی اپنی بیٹیوں ’مالیہ‘ اور ’ساشا‘ کے متعلق انکشاف کیا ہے کہ انہیں سنسنی خیز خبروں کا حصہ  سے بچانا  کتنا مشکل تھا۔

یہ بھی پڑھیں:باراک اوباما کی اداکارہ جینیفر اینسٹن سے قربتیں، کیا مشعل اوباما کو طلاق دے دی؟

مشیل اوباما کے مطابق پُرتجسس بڑھتی عمر کے ساتھ بیٹیاں ہر نئی چیز کو ایکسپیریئنس کرنا چاہتی تھیں۔

سابق امریکی خاتون اول کے مطابق مالیہ اور ساشا اس وقت گاڑی چلانا اور پروم (ہائی اسکولز کی ڈانس پارٹی) میں جانا چاہتی تھیں، وہ پارٹیوں میں گئیں، انہوں نے مے نوشی اور سگریٹ نوشی کی کوشش کی۔

مشیل اوباما کے مطابق ان کے لیے ہر ویک اینڈ پر بیٹیوں کے یہ مشاغل کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھے۔

وہ کہتی ہیں کہ ان کی بھرپور کوشش ہوتی تھی کہ ان کی نوجوان بیٹیاں اپنے مشاغل کی سبب ’میڈیا کی زینت‘ نہ بن پائیں۔

یہ بھی پڑھیں:اوباما اور ٹرمپ کی گفتگو پر کمالا ہیرس ناراض ہوگئیں؟ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل

مالیہ اور ساشا کا بچپن اس لیے بھی پیچیدہ تھا کہ انہیں ہر جگہ سیکیورٹی کے ساتھ جانا پڑتا تھا۔

مشیل کے مطابق جب آپ کے بچے سیکرٹ سروس کی حفاظت میں ہوتے ہیں، تو آپ کو ان کی زندگی کو معمول پر لانے کے لیے تقریباً دُگنی محنت کرنی پڑتی ہے۔

مشیل اس بات کو یقینی بنانا چاہتی تھیں کہ ان کی بیٹیاں کبھی بھی مشہور شخصیات کی طرح محسوس نہ کریں۔

مالیا 10 سال کی تھی جب اس کے والد اوباما نے اپنی صدارتی مدت شروع کی، جب کہ اس کی بہن ساشا صرف 7 سال کی تھیں۔

گزشتہ سال ’مالیہ‘ نے اپنی مختصر فلم ’دی ہارٹ‘ تخلیق کی تخلیق کے ساتھ پریمیئر کے لیے 2024 سنڈینس فلم فیسٹیول میں اپنے ریڈ کارپٹ کی شروعات کی۔

جب کہ ’ساشا‘ نے مئی 2023 میں یو ایس سی سے سماجیات کی ڈگری حاصل کی اور اب لاس اینجلس میں رہ رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بارک اباما ساشا اوباما مالیہ اوباما مشیل اوباما.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ساشا اوباما مالیہ اوباما مشیل اوباما مشیل اوباما کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید

ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید(فائل فوٹو)۔

ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے بیان پر ردِعمل دے دیا۔

ایک بیان میں سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ فلاحی ریاست کا درس دینے والے آج غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں ہیں؟ 

ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمٰن کا بیان ان کی سطحی اور غریب دشمن سوچ کا عکاس ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ قرار دینا لاکھوں مستحق خاندانوں کی توہین کے مترادف ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟