سابق امریکی صدر اوباما کی بیٹیوں کے مشاغل ڈراؤنا خوب کیوں تھے؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
سابق امریکی صدر بارک حسین اوباما کی اہلیہ مشیل اوباما نے 2009 سے 2017 درمیان نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے والی اپنی بیٹیوں ’مالیہ‘ اور ’ساشا‘ کے متعلق انکشاف کیا ہے کہ انہیں سنسنی خیز خبروں کا حصہ سے بچانا کتنا مشکل تھا۔
یہ بھی پڑھیں:باراک اوباما کی اداکارہ جینیفر اینسٹن سے قربتیں، کیا مشعل اوباما کو طلاق دے دی؟
مشیل اوباما کے مطابق پُرتجسس بڑھتی عمر کے ساتھ بیٹیاں ہر نئی چیز کو ایکسپیریئنس کرنا چاہتی تھیں۔
سابق امریکی خاتون اول کے مطابق مالیہ اور ساشا اس وقت گاڑی چلانا اور پروم (ہائی اسکولز کی ڈانس پارٹی) میں جانا چاہتی تھیں، وہ پارٹیوں میں گئیں، انہوں نے مے نوشی اور سگریٹ نوشی کی کوشش کی۔
مشیل اوباما کے مطابق ان کے لیے ہر ویک اینڈ پر بیٹیوں کے یہ مشاغل کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھے۔
وہ کہتی ہیں کہ ان کی بھرپور کوشش ہوتی تھی کہ ان کی نوجوان بیٹیاں اپنے مشاغل کی سبب ’میڈیا کی زینت‘ نہ بن پائیں۔
یہ بھی پڑھیں:اوباما اور ٹرمپ کی گفتگو پر کمالا ہیرس ناراض ہوگئیں؟ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل
مالیہ اور ساشا کا بچپن اس لیے بھی پیچیدہ تھا کہ انہیں ہر جگہ سیکیورٹی کے ساتھ جانا پڑتا تھا۔
مشیل کے مطابق جب آپ کے بچے سیکرٹ سروس کی حفاظت میں ہوتے ہیں، تو آپ کو ان کی زندگی کو معمول پر لانے کے لیے تقریباً دُگنی محنت کرنی پڑتی ہے۔
مشیل اس بات کو یقینی بنانا چاہتی تھیں کہ ان کی بیٹیاں کبھی بھی مشہور شخصیات کی طرح محسوس نہ کریں۔
مالیا 10 سال کی تھی جب اس کے والد اوباما نے اپنی صدارتی مدت شروع کی، جب کہ اس کی بہن ساشا صرف 7 سال کی تھیں۔
گزشتہ سال ’مالیہ‘ نے اپنی مختصر فلم ’دی ہارٹ‘ تخلیق کی تخلیق کے ساتھ پریمیئر کے لیے 2024 سنڈینس فلم فیسٹیول میں اپنے ریڈ کارپٹ کی شروعات کی۔
جب کہ ’ساشا‘ نے مئی 2023 میں یو ایس سی سے سماجیات کی ڈگری حاصل کی اور اب لاس اینجلس میں رہ رہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بارک اباما ساشا اوباما مالیہ اوباما مشیل اوباما.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ساشا اوباما مالیہ اوباما مشیل اوباما مشیل اوباما کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔