بھارت نے پاکستانی پروازوں کیلئے اپنی فضائی حدود بند کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
انڈیا کے خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق، انڈین حکام کا کہنا ہے کہ اس پابندی کا اطلاق یکم مئی سے 23 مئی تک ہو گا۔ اس حوالے سے بدھ کے روز ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا نے ایک نوٹم بھی جاری کر دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ انڈیا نے پاکستانی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انڈیا کے خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق، انڈین حکام کا کہنا ہے کہ اس پابندی کا اطلاق یکم مئی سے 23 مئی تک ہو گا۔ اس حوالے سے بدھ کے روز ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا نے ایک نوٹم بھی جاری کر دیا ہے۔ نوٹم یا نوٹس تو ایئرمین پائلٹوں اور دیگر فضائی صارفین کو ممکنہ خطرات یا پرواز کے راستے یا کسی مخصوص مقام پر ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ اس پابندی کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی رجسٹرڈ طیاروں اور وہ طیارے جو پاکستانی ایئرلائنز یا آپریٹرز کی طرف سے چلائے جاتے ہیں، اُن کی ملکیت ہیں یا اُن کی جانب سے لیز کیے گئے ہیں، اُن تمام کے لیے انڈیا کی فضائی حدود دستیاب نہیں ہو گی۔ پاکستانی ایئر لائنز سنگاپور، ملائیشیا اور دیگر مشرقی ایشیائی ممالک جانے کے لیے انڈیا کی فضائی حدود استعمال کرتی ہیں۔ ایک سینیئر سرکاری عہدیدار نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ اس پابندی کا اطلاق پاکستان کے فوجی جہازوں پر بھی ہو گا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل پہلگام حملے کے بعد نئی دہلی کی طرف سے پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے طے شدہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی، اٹاری بارڈر کی بندش سمیت دیگر اقدامات کے جواب میں پاکستان نے انڈین پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اس پابندی کا آف انڈیا کے لیے
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔