پاکستان سے اونٹنی کے دودھ کا پاؤڈر چین کو برآمد، اہم معاشی سنگِ میل
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
پاکستان نے اونٹنی کے دودھ کے پاؤڈر کی پہلی کھیپ چین کو برآمد کر دی ہے، جو ملکی زرعی و ڈیری شعبے میں ایک اہم پیشرفت اور بین الاقوامی منڈی میں نئی راہوں کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔ یہ برآمدی معاہدہ چین کی دو نمایاں کمپنیوں The One HK Holding Ltd اور Xi’an “Tuo Zhong Tuo” Biotechnology Ltdکے اشتراک سے عمل میں آیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر حسین نے اس منصوبے کو پاکستان کے زرعی شعبے میں جدیدیت، بین الاقوامی تعاون اور معاشی ترقی کے لیے سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں زراعت کا شعبہ تیزی سے بحال ہو رہا ہے اور اس میں جدت، روزگار اور برآمدات کے بے شمار مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ریگستان کا جانور اونٹ کشمیر کے پہاڑوں پر
رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ یہ کامیابی نہ صرف ہماری صلاحیتوں کا ثبوت ہے بلکہ دیگر شعبہ جات کو بھی نئی بین الاقوامی منڈیوں میں مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ وزارتِ خوراک و تحقیق جدید اور برآمداتی منصوبوں کی مکمل معاونت کرے گی تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔
اونٹنی کے دودھ کے پاؤڈر کی برآمد سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں بلکہ پاکستان کو ڈیری مصنوعات کی خصوصی منڈیوں میں ایک ابھرتی ہوئی قوت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اونٹ پاکستان چائنا چین ملک پاؤڈر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اونٹ پاکستان چائنا چین ملک پاؤڈر
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔