بھارت اشتعال انگیزی کو ہوا دے رہا، دنیا غیر ذمہ دارانہ رویئے کا نوٹس لے: عاصم افتخار
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ بھارت خطے میں اشتعال انگیزی کو ہوا دے رہا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے او آئی سی گروپ کے سفیروں کو جنوبی ایشیا کی تازہ ترین صورتحال بار ے بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ دنیا بھارت کے سیاسی بنیادوں پر غیر ذمہ دارانہ رویئے کا نوٹس لے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ بھارتی اشتعال انگیزی علاقائی امن اور استحکام کیلئے سنگین خطرہ ہے، بھارتی رویئے نے امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا، او آئی سی نے پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
ہم لڑنا نہیں چاہتے مگر قربانی سے دریغ نہیں کریں گے: رضوان سعید شیخ
دوسری جانب امریکی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان کی ٹرمپ انتظامیہ سے مسئلہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کرنے کی توقع ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جنگوں کے خاتمے اور پائیدار امن قائم کرنے کا مقصد خوش آئند ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا بغیر ثبوت پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا بدنیتی پر مبنی ہے، پاکستان لڑنا نہیں چاہتا، وقار کے ساتھ امن چاہتا ہے۔
سفیر پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات میں کشمیر کا تنازع دو جوہری طاقتوں کے درمیان سب سے بڑا فلیش پوائنٹ بن چکا ہے، جب تک مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں ہوتا، خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہوگا۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عاصم افتخار پاکستان کے
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔