پاکستان کی معاشی شرحِ نمو ہدف سے کم رہے گی، آئی ایم ایف کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معیشت مقررہ ہدف سے کم رفتار سے ترقی کرے گی۔ ’ورلڈ اکنامک آؤٹ لک 2025‘ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی شرح نمو 4.2 فیصد کے بجائے 3.6 فیصد تک محدود رہنے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف نے رواں مالی سال کے لیے عالمی شرح نمو 3 فیصد اور آئندہ سال 2026 میں 3.
مزید پڑھیں: پاکستان میں معاشی ترقی کی رفتار 3.5 فیصد رہنے کا امکان ہے، آئی ایم ایف
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی معیشت کو بدستور غیر یقینی صورتحال اور معاشی خطرات لاحق ہیں، جن میں جغرافیائی کشیدگیاں اور اشیا کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہیں۔ ایسے حالات عالمی مالی نظام کے استحکام کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور چین نے تجارتی تنازعات میں وقتی نرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 90 دنوں کے لیے اضافی محصولات کو معطل کیا تھا، تاہم یہ رعایت یکم اگست کو ختم ہو رہی ہے، جس کے بعد تجارتی کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے کا خدشہ ہے۔
آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی سطح پر غیر یقینی اور کشیدہ حالات برقرار رہے، تو ترقی پذیر معیشتوں کو مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’ورلڈ اکنامک آؤٹ لک 2025‘ آئی ایم ایف پاکستان عالمی مالیاتی ادارے مالی سال
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ورلڈ اکنامک آؤٹ لک 2025 ا ئی ایم ایف پاکستان عالمی مالیاتی ادارے مالی سال آئی ایم ایف کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
خلیج میں جاری لڑائی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستانی بندرگاہوں پر تجارتی مصروفیات تیز ہو گئیں۔
عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14 ہزار300 سے بڑھ جائے گی۔ خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔
میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے۔ سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔
ماہرین کے مطابق کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں۔ پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔