روس میں شدید زلزلے کے بعد جاپان اور امریکا سے لے کر آسٹریلیا اور تائیوان تک سونامی الرٹ جاری، آفٹر شاکس ایک مہینے تک جاری رہنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
ماسکو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 جولائی2025ء) روس کے انتہائی مشرقی جزیرہ نما کامچٹکا میں بدھ کی دوپہر آنے والے 8.8 درجے شدت کے زلزلے سے روس کے ساتھ ساتھ جاپان، امریکا ، ایکواڈور،میکسیکو ،پیرو ، کوسٹا ریکا، فرانسیسی پولینیشیا، گوام، چلی،سولومن جزائر ، آسٹریلیا، کولمبیا ،نیوزی لینڈ، ٹونگا اور تائیوان سمیت دیگر مقامات پر سونامی الرٹ جاری کئےگئے ہیں ۔
اس زلزلے کو 1952 کے بعد سے اس خطے کا شدید ترین زلزلہ قرار دیا گیا ہے، جس سے نہ صرف عمارتوں کو نقصان پہنچا بلکہ 4 میٹر بلند سونامی لہریں پیدا ہوئیں ، زلزلے کا مرکز علاقائی دارالحکومت سے 149 کلومیٹر جنوب مشرق میں 17 کلومیٹر کی گہرائی میں واقع تھا ۔ زلزلے کے بعد علاقے میں اب تک کم از کم 30آفٹر شاکس آچکے ہیں جن میں سے دو شدید ترین آفٹر شاکس میں سے ایک کی شدت 6.9 اور دوسرے کی 6.3 ریکارڈ کی گئی ہے۔
(جاری ہے)
ماہرین ارضیات نے علاقے میں کم از کم ایک ماہ تک کے لئے ریکٹر سکیل پر 7.5 درجے شدت تک کے آفٹر شاکس کی پیش گوئی کی ہے۔زلزلے کے باعث روس ، جاپان اور امریکی جزائر ہوائی ،ایکواڈور،میکسیکو اور پیرو تک کوسٹا ریکا، فرانسیسی پولینیشیا، گوام، چلی اور سولومن جزائر میں ایک میٹر سے تین میٹر تک بلند سمندر ی لہریں ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کا اندیشہ ہے۔ امریکی مغربی ساحل سمیت بحر الکاہل کے بیشتر ساحلی خطوں پر اس سے نسبتا ً کم بلندی کی لہریں ساحلی علاقوں سے ٹکرا سکتی ہیں جس کی وجہ سے کئی ساحلی علاقوں سے لوگوں کے انخلا کی ہدایات دی گئی ہیں۔آسٹریلیا، کولمبیا، میکسیکو، نیوزی لینڈ، ٹونگا اور تائیوان سمیت دیگر مقامات پر ایک میٹر تک لہریں اٹھنے کا امکان ہے۔زلزلے کے بعدکامچٹکا کے کچھ حصوں میں 3 سے 4 میٹر (10-13 فٹ) بلند سونامی لہریں ریکارڈ کی گئیں۔ روسی حکام نے بتایا کہ سونامی نے ساحلی شہر سیویرو کورلسک کو نشانہ بنایا ۔ امریکی جیالوجیکل سروے نے زلزلے کے مرکز کی گہرائی 19.3 کلومیٹر بتائی ہے اور کہا ہے کہ یہ 165,000 آبادی والے کامچٹکا کے شہر پیٹرو پاولوسک کامچٹسکی سے 119 کلومیٹر جنوب مشرق میں تھا۔جاپان کی موسمیاتی ایجنسی نے اپنی وارننگ کو اپ گریڈ کرتے ہوئے کہا کہ اسے 3 میٹر (10 فٹ) تک سونامی کی لہریں بڑے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کی توقع ہے۔جاپان کی بجلی پیدا کرنے والی کمپنی ٹیپکو نے کہا ہے کہ اس نے 2011 کے سونامی سے متاثر ہونے والے فوکوشیما جوہری پلانٹ کو خالی کر دیا ہے۔واضح رہے کہ کامچٹکا میں 20 جولائی کو بھی ایک گھنٹے کے دوران پے درپے پانچ زلزلے ریکارڈ گئے گئے تھے جن کی شدت ریکٹر سکیل پر 5.3، 6.5، 7.6 اور 6.8 تھی اور ان کے مراکز 7 سے 100 کلومیٹر کی گہرائی میں تھے ۔ ان پانچ میں سے تین زلزلے 30منٹ کے اندر آئے تھے ۔ پانچ زلزلوں کے بعد علاقے میں سونامی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ کامچٹکا بحرالکاہل اور بحیرہ اوخوتسک کےد رمیان واقع روس کا جزیرہ نما علاقہ ہے جس کا رقبہ دو لاکھ 70 ہزار کلومیٹر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ساحلی علاقوں سے زلزلے کے کے بعد
پڑھیں:
کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘