جون ایلیا کے خاندان کی ووکس ویگن گاڑی راولپنڈی میں شاندار انداز میں بحال
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
راولپنڈی میں ایک شہری نے جرمن ساختہ ووکس ویگن گاڑی خرید کر نہ صرف اسے بحال کیا بلکہ شاندار انداز میں اس کی تزئین و آرائش بھی کی ہے۔ یہ گاڑی ماضی میں معروف شاعر جون ایلیا کے خاندان کی ملکیت رہی ہے۔
جون ایلیا جیسے عظیم شاعر کے خاندان سے منسلک ووکس ویگن گاڑی کی بحالی نہ صرف ایک فنی کارنامہ ہے بلکہ ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کی خوبصورت کوشش بھی ہے۔ راولپنڈی کے اس شہری نے جس محبت اور تخلیقی سوچ کے ساتھ اس گاڑی کو نئے رنگ و روپ میں ڈھالا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔
مالک نے گاڑی کو سیاحت کے لیے موزوں بنانے کے لیے مختلف تبدیلیاں کی ہیں جن میں مکمل قالین فرش، گھومنے والی نشستیں اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔ اب یہ منفرد گاڑی اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کے لیے بہترین سواری بن چکی ہے۔
مکمل قالین فرش آرام دہ سفر کا احساس دیتا ہے، گھومنے والی نشستیں گفتگو اور تفریح کے لیے مثالی ہیں اور دیگر جدید سہولیات اسے سیاحتی مقاصد کے لیے موزوں بناتی ہیں۔
یہ نہ صرف ایک پرانی گاڑی کی بحالی ہے، بلکہ یادوں اور تاریخ کو زندہ رکھنے کا عمل بھی ہے۔ اس کی بحالی اور تبدیلیوں کی جھلکیاں آپ اس مختصر ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں:
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
شانگلہ:چھت منہدم‘6بچے‘گاڑی کھائی میں جا گرنے پر 6مسافر گلگت میں جاںبحق
شانگلہ+ گلگت (نامہ نگار+ ایجنسیاں) شانگلہ کے علاقے رحیم آباد باسی میں کچے مکان کی چھت گر گئی جس کے نتیجے میں چھ بچے جاں بحق ہوگئے ۔ریسکیو حکام کے مطابق مکان کے ملبے تلے دب کر 6 بچے‘ کوہستان کے مقام پر گاڑی کھائی میں گرنے سے 6 مسافر جاں بحق ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 4 بچیاں اور 2 بچے شامل ہیں، جن کی عمریں 4 سے 15 سال کے درمیان تھیں، ایک بچی کو زندہ نکال لیا گیا۔ گلگت بلتستان میں سکردو سے راولپنڈی جانے والی ایک مسافر گاڑی پٹن کوہستان کے علاقے میں کھائی میں گر گئی۔اس ہولناک حادثے کے نتیجے میں گاڑی میں سوار چھ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ دوسری جانب سکردو میں ہی دیوسائی روڈ کی بندش کی وجہ سے سیکڑوں ملکی و غیر ملکی سیاح شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ سڑک کا ایک حصہ پانی کے تیز بہائو میں بہہ گیا جس کے بعد سے یہ اہم راستہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہو چکا ہے۔ پورے علاقے کا رابطہ بھی منقطع ہو چکا ہے جس کی وجہ سے پھنسے ہوئے لوگوں کا اپنے پیاروں سے رابطہ کرنا ناممکن ہو گیا۔ سکردو گلگت روڈ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہونے کے سبب پٹرول کی سپلائی متاثر ہوگئی۔ ہیوی مشینری کے ذریعے راستہ کھولنے کی کوششیں جاری ہیں، قلت کے باعث کئی پیٹرول پمپس بند ہوگئے۔