بھارت کی انتہاپسند مودی سرکار نے حکم عدولی پر بری فوج کے اعلیٰ عہدیدار کے بعد فضائیہ کے اعلیٰ افسر کو بھی برطرف کردیا، بھارتی فضائیہ کے وائس چیف آف ایئر اسٹاف ایئر مارشل ایس پی دھارکر کو عہدہ سنبھالنے کے 7 ماہ بعد ہی عہدے سے ہٹادیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایئر مارشل ایس پی دھارکر منگل کی رات مقبوضہ کشمیر میں رافیل طیاروں کی جارحانہ پروازوں کے نگران تھے تاہم پاک فضائیہ کی جانب سے رافیل طیاروں کو فوری اور موثر انداز میں روکے جانے بعد ایئرمارشل ایس پی دھارکر کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر سوال اٹھائے جا رہے تھے۔

بھارتی فضائیہ کے نائب سربراہ نے اپنے پائلٹس کی رافیل ہینڈلنگ پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا، بھارتی رافیل طیارے پاکستانی جدید ریڈارز کے سامنے بے بس ہوگئے تھے اور لائن آف کنٹرول کو جارحانہ طور پر کھوجنے کا ٹاسک لئے رافیل کو پاکستانی ریڈارز نے جام کر دیا تھا۔

طیارے ایک اور آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کا شکار ہوگئے، ایئرمارشل ایس پی دھارکر کی جگہ ایئر مارشل نرمدیشور تیواری کو بھارتی فضائیہ کا نیا چیف آف ایئراسٹاف مقرر کیا گیا ہے تاکہ بھارتی فضائیہ میں ہم آہنگی قائم رکھی جا سکے۔

وائس چیف آف ایئر اسٹاف کی برطرفی نے بھارتی فضائیہ میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے، واضح رہے کہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد یہ دوسری بڑی عسکری تبدیلی ہے، شمالی کمان کے آرمی کمانڈر کو پہلے ہی تبدیل کیا جا چکا ہے۔

اعلیٰ فوجی قیادت میں تیز رفتار تبدیلیاں بی جے پی کے فاشسٹ ایجنڈے اور افواج کی پیشہ ورانہ خودمختاری کے درمیان بداعتمادی کا ثبوت ہیں۔

واضح رہے کہ مودی سرکار نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد پاکستان کے خلاف فوری طور پر مہم جوئی سے انکار کرنے والے بھارتی لیفٹیننٹ جنرل ایم وی سچندر کمار کو کمانڈر ناردرن کمانڈ کے عہدے سے ہٹا دیا۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ف ایئر کے بعد

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان