Islam Times:
2026-06-03@03:51:55 GMT

کمزور بھارتی جنگی صلاحیت، اندرونی کمزوریاں آشکار

اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT

کمزور بھارتی جنگی صلاحیت، اندرونی کمزوریاں آشکار

اسلام ٹائمز: پہلگام فالس فلیگ کی ناکامی ایک گہرے بحران کی علامت ہے، جو بھارتی عسکری اداروں اور مودی سرکار کے درمیان پنپ رہا ہے۔ بی جے پی کے سیاسی مفادات کے لیے فوجی اداروں کو استعمال کرنے کی کوششوں نے بھارت کی عسکری خودمختاری اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو شاید بھارت کو اپنے اندرونی ٹوٹ پھوٹ کے اثرات سرحدوں سے باہر نہیں، اندر ہی دیکھنے پڑیں۔ خصوصی رپورٹ:

بھارت میں عسکری قیادت کے ڈھانچے میں ہلچل مچ گئی ہے۔ پہلگام فالس فلیگ واقعے کے بعد اب ایک اور ہنگامہ خیز تبدیلی نے بھارتی فوجی اداروں کی اندرونی کمزوریوں کو آشکار کر دیا ہے۔ مودی حکومت کو ایک اور دھچکا اُس وقت لگا جب بھارتی فضائیہ کے نائب سربراہ ایئر مارشل ایس پی دھارکر کو اچانک عہدے سے ہٹا دیا گیا — وہ بھی صرف سات ماہ بعد۔ ذرائع کے مطابق ایئر مارشل دھارکر نے حکومت کی جنگجو پالیسیوں سے کھلے عام اختلاف کیا اور رافیل طیاروں کے حالیہ آپریشن میں پائلٹس کی کارکردگی پر شدید عدم اطمینان ظاہر کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ پاک فضائیہ کی بروقت اور مؤثر مداخلت نے رافیل طیاروں کو نہ صرف دفاعی پوزیشن پر مجبور کر دیا بلکہ بھارتی فضائیہ کی پوری حکمتِ عملی کو بے نقاب کر دیا۔

رافیل طیاروں کی ذلت آمیز ناکامی
گزشتہ رات لائن آف کنٹرول پر رافیل طیاروں نے جارحانہ پروازیں کیں جن کا مقصد پاکستانی دفاعی نظام کو چیلنج کرنا تھا۔ تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ جدید پاکستانی ریڈار سسٹمز نے بھارتی طیاروں کے مواصلاتی نظام کو جام کر دیا، جس کے نتیجے میں رافیل طیارے راستہ بھول گئے اور آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی طرح ایک اور عبرت ناک ناکامی کا شکار ہو گئے۔ یہ صورتحال نہ صرف بھارتی فضائیہ کے لیے شرمندگی کا باعث بنی بلکہ حکومت کو بھی سخت دفاعی مؤقف اختیار کرنے پر مجبور کیا۔

اندرونی خلفشار
رافیل طیاروں کی اس ناکامی کے بعد ایئر مارشل ایس پی دھارکر نے نہ صرف پائلٹس کی تیاریوں پر سوال اٹھائے بلکہ مرکزی عسکری پالیسیوں پر بھی تنقید کی، جس کے بعد انہیں فوراً برطرف کر دیا گیا۔ ان کی جگہ ایئر مارشل نرمدیشور تیواری کو نائب فضائی سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے تاکہ بھارتی فضائیہ کے اندر بگڑتی ہوئی ہم آہنگی کو کچھ دیر کے لیے سہارا دیا جا سکے۔ یہ تنزلی اس وقت ہوئی جب چند روز قبل ہی شمالی کمان کے آرمی کمانڈر کو تبدیل کیا گیا تھا، جو پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے ناکام انجام کے بعد ممکنہ ردِعمل تھا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مودی حکومت عسکری اداروں میں عدم اطمینان اور بے یقینی کو دبانے کے لیے تیز رفتار تبدیلیوں پر مجبور ہو چکی ہے۔

سیاسی دباؤ
ایئر مارشل دھارکر کی برطرفی کو بھارتی سیاسی و عسکری حلقے ”خاموش بغاوت“ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عسکری قیادت اب مودی حکومت کے فاشسٹ بیانیے کے آگے جھکنے کو تیار نہیں۔ فوجی ادارے جو پہلے صرف پیشہ ورانہ نظم و ضبط کے تابع تھے، اب سیاسی فیصلوں کی بھینٹ چڑھتے جا رہے ہیں۔ ایک معروف دفاعی ماہر کے مطابق، ’ایئر فورس اور آرمی میں یہ تیز رفتار تبدیلیاں محض اتفاق نہیں۔ یہ اس گہری بداعتمادی کی علامت ہیں جو بی جے پی کے انتہاپسندانہ ایجنڈے اور افواج کی پیشہ ورانہ خودمختاری کے درمیان پنپ رہی ہے۔‘

مزید بغاوتوں کا اندیشہ
دفاعی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہی حالات برقرار رہے تو آئندہ دنوں میں بھارتی افواج سے مزید سینئر افسران کے استعفے یا برطرفیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ خاص طور پر ان افسران کی جو جنگی بنیاد پرستی کے بجائے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور حقیقت پسندی کو ترجیح دیتے ہیں۔

ٹوٹ پھوٹ کا شکار عسکری منظرنامہ
رافیل طیاروں کی ہزیمت، ایئر مارشل کی برطرفی، شمالی کمان کی قیادت میں تبدیلی، اور پہلگام فالس فلیگ کی ناکامی — یہ تمام واقعات اس ایک گہرے بحران کی علامت ہیں جو بھارتی عسکری اداروں اور مودی سرکار کے درمیان پنپ رہا ہے۔ بی جے پی کے سیاسی مفادات کے لیے فوجی اداروں کو استعمال کرنے کی کوششوں نے بھارت کی عسکری خودمختاری اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو شاید بھارت کو اپنے اندرونی ٹوٹ پھوٹ کے اثرات سرحدوں سے باہر نہیں، اندر ہی دیکھنے پڑیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پہلگام فالس فلیگ بھارتی فضائیہ رافیل طیاروں ایئر مارشل نے بھارت کر دیا کے لیے کے بعد

پڑھیں:

بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟

گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ

بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔

بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟

بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔

نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔

بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔

حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔

ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔

تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔

کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟

پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔

2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان

دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان