کراچی میں خونریزی کے مختلف واقعات میں 2 افراد ہلاک، 2 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد کے مختلف علاقوں میں ہونے والے خونریز واقعات میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہوگئے ہیں۔
اورنگی ٹاؤن کی ایم پی آر کالونی قبرستان کے قریب سے ایک گولی لگی لاش برآمد ہوئی، جس کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق لاش کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم مقتول کی تفصیلات ابھی تک منظر عام پر نہیں آئیں۔
دوسری جانب، شادمان ایک نمبر کے قریب فائرنگ کے ایک اور واقعے میں دو نوجوان زخمی ہوگئے ہیں۔
مزید پڑھیں: کراچی فائرنگ کے مختلف واقعات میں 3 افراد زخمی
زخمیوں کی شناخت اسد اور محمد حسن کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ریسکیو حکام نے انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
ایک اور واقعہ سپر ہائی وے پر چاکر ہوٹل کے قریب پیش آیا، جہاں نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے ایک راہگیر جاں بحق ہوگیا۔
چھیپا ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت الٰہی بخش ولد مٹھل، عمر 30 سال کے طور پر کی گئی ہے۔ ان کی لاش چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی اسپتال منتقل کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔