شہرۂ آفاق پینلٹی کارنر اسپیشلسٹ نیدرلینڈز کے فلوریس جان بولینڈر 1990 کے ہاکی ورلڈ کپ کی یادیں تازہ کرنے کےلیے لاہور کے نیشنل ہاکی اسٹیڈیم پہنچ گئے۔

1990ء کے ہاکی ورلڈکپ کے فائنل میں پاکستان اور نیدرلینڈز کی ٹیمیں مدمقابل تھیں۔ یاد رہے کہ دنیا کا سب سے بڑا ہاکی اسٹیڈیم تماشائیوں سے بھرا ہوا تھا جہاں انہوں نے پاکستان کے خلاف فائنل میں ریکارڈ تماشائیوں کی موجودگی میں دو گول کر کے اپنی ٹیم کو عالمی چیمپئن بنوایا تھا۔

ڈچ ہاکی لیجنڈ ان دنوں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ہیں۔ نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں ان کے شاندار کیریئر کی سنہری یادیں ہیں۔

بولینڈر اسٹیڈیم پہنچتے ہی سیدھا گول پوسٹ کی طرف گئے جہاں انہوں نے دو گول کیے تھے، انہوں نے وہاں اولمپئن خواجہ جنید کے ساتھ وقت گزارا جو ان کے لاہور میں میزبان ہیں۔

بولینڈر نے کہا کہ یہاں آکر بہت اچھا لگ رہا ہے، کافی وقت گزر گیا مگر یہاں نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا، گول پوسٹ میں صرف تبدیلی ہوئی ہے، یہاں شائقین سے اسٹیڈیم بھرا ہوا تھا، ہمارے اوپر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ ورلڈکپ کا فائنل بڑا شاندار میچ تھا، یہاں ایک اچھا تجربہ اور اچھی یادیں ہیں، یہ سب ٹیم ایفرٹ کا نتیجہ ہوتا ہے اگر آپ بطور ٹیم نہیں کھیلتے تو آپ کو پنالٹی کارنر بھی نہیں ملتا۔

بولینڈر نے کہا کہ اب تو اس بات کو 35 سال ہوچکے ہیں اور پھر پرانے دوستوں کے ساتھ ملنا بڑا اچھا لگ رہا ہے، اپنی یادوں کو تازہ کرنے کےلیے اپنے پرانے ساتھیوں کے ساتھ یہاں نمائشی میچ کھیلنا اچھا رہے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان نے ہالینڈ کو 1994 ورلڈکپ کے فائنل میں شکست دے کر 1990 کی ہار کا بدلہ لے لیا تھا۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انہوں نے

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں