صوبے کے اختیار کسی کو منتقل نہیں کررہے، تمام پارلیمنٹیرینز بل کو غور سے پڑھیں، علی امین کی آڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز کے واٹس ایپ گروپ میں ایک آڈیو پیغام کے ذریعے مجوزہ معدنیات قانون سے متعلق جاری بحث پر وضاحت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بل کی کاپیاں تمام ارکان کو فراہم کردی گئی ہیں، لہٰذا کسی بھی قسم کے مفروضے پھیلانے سے گریز کیا جائے۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ جس کو بل کی سمجھ ہے وہ خود پڑھ لے، اور جسے سمجھ نہیں آتی وہ کسی وکیل سے مشورہ کر لے۔ وزیراعلیٰ نے سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے مفروضوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ بل میں واضح طور پر صوبے کے اختیارات کسی اور کو منتقل نہیں کیے جا رہے۔
علی امین گنڈاپور نے زور دیا کہ نہ وفاقی حکومت اور نہ ہی خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کو کوئی اختیار دیا جا رہا ہے۔ آپ لوگوں نے بل پڑھا ہی نہیں اور مفروضوں کی بنیاد پر بیانیہ بنا لیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اس بل پر باقاعدہ مشاورت کی جائے گی اور تب ہی اسے منظور کیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قانون سازی کرنے والے اراکین کو چاہیے کہ وہ بل کو سمجھیں تاکہ مثبت اصلاحات کی جاسکیں۔
انہوں نے بتایا کہ اصلاحات کے بغیر بھی مائنز اینڈ منرلز کا ریونیو ساڑھے 3 ارب روپے تک بڑھا دیا گیا ہے اور توقع ہے کہ یہ رواں مالی سال کے اختتام تک دگنا ہو جائے گا۔ اگر بل میں ترمیم کی ضرورت ہوئی تو کی جائے گی، مگر براہِ کرم مفروضوں کی بنیاد پر اپنا مؤقف مت بنائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آڈیو لیک پارلیمنٹیرینز خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور مائنز اینڈ منرلز بل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ڈیو لیک پارلیمنٹیرینز خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور مائنز اینڈ منرلز بل علی امین
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :