مالٹا؛ غزہ کیلیے امداد لے جانے والے بحری جہاز پر اسرائیل کا ڈرون حملہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور رضاکروں کو لے جانے والے ایک بحری جہاز پر مالٹا کے سمندر میں ڈرون حملہ کیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فریڈم فلوٹیلا کولیشن نامی بین الاقوامی تنظیم نے بتایا کہ بحری جہاز ’کونشس‘ میں ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اُٹھی۔
تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ اسرائیل نے کیا تاہم مالٹا کی حکومت نے اس کی تردید یا تصدیق نہیں کی۔
تنظیم نے مالٹا کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی سفیروں کو طلب کرکے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں، غزہ کی ناکہ بندی اور بین الاقوامی پانیوں میں ایک شہری جہاز پر حملے پر سرزنش کریں۔
فریڈم فلوٹیلا کولیشن نامی تنظیم نے بحری جہاز کے غرق ہونے کا خطرہ ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس پر 30 بین الاقوامی انسانی حقوق کے کارکن سوار ہیں۔
تاہم مالٹا کی حکومت کا کہنا ہے کہ جہاز پر عملے کے 12 ارکان اور 4 عام شہری سوار تھے۔
قریبی ٹگ بوٹ نے آگ بجھانے کا عمل شروع کیا جبکہ گشت پر مامور ایک مالٹا کی کشتی کو بھی روانہ کیا گیا ہے۔
کئی گھنٹوں کی امدادی کاموں کے بعد جہاز میں موجود تمام 16 افراد کے محفوظ ہونے کی تصدیق کردی گئی۔
تاحال بحری جہاز کے اوپر طیارے گردش کر رہے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے ڈرون حملے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے کسی بحری جہاز پر یہ پہلا حملہ نہیں ہے۔ 2010 میں اسرائیلی فوج کے جہاز پر حملے میں 9 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
اس واقعے کے بعد بھی اسرائیل نے غزہ جانے والے امدادی سامان سے لدے بحری جہازوں کو بین الاقوامی پانیوں پر روکتا آیا ہے۔
یاد رہے کہ غزہ میں جنگ اُس وقت شروع ہوئی جب 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں 1,200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔
جس کے جواب میں اسرائیل کے غزہ پر جاری بمباری میں اب تک 60 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ جن میں نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی بحری جہاز جانے والے مالٹا کی جہاز پر
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔