کراچی: جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر نوجوان کے موبائل فون سے ساڑھے 8 لاکھ ڈالر مالیت کی ڈیجیٹل کرنسی دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کے معاملے پر پیشرفت سامنے آئی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پشاور جانے والے نوجوان فیض یاب نے حکام پر ساڑھے 8 لاکھ ڈالر ڈیجیٹل کرنسی دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے اور ای میل، واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک کرنے کا الزام لگایا تھا۔

اس معاملے میں پولیس نے متاثرہ نوجوان کا بیان ریکارڈ کرلیا۔ ایس ایس پی ملیر کے مطابق متاثرہ نوجوان فیض یاب نے پولیس کو ابتدائی بیان ریکارڈ کرادیا ہے۔

متاثرہ نوجوان فیض یاب نے کراچی ائیرپورٹ پہنچنے سے باہر نکلنے تک کے تمام حالات پولیس کو بتائے، متاثرہ نوجوان نے پولیس کو بتایا کہ ایئرپورٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیجز میں وہ افراد شناخت ہوسکتے ہیں جو اس واقعے میں ملوث ہیں۔ فیض یاب کے بیان کے مطابق پولیس نے ایڈیٹڈ فوٹیج دیکھائی ہیں جسکے مطابق میں 45 منٹ تک ایک ہی جگہ بیٹھا رہا تھا۔

متاثرہ نوجوان نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر 30 روز گزر گئے تو ائیرپورٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیجز ضائع ہوجائیں گی۔

اپنے بیان میں اس نے اس کمرے کی بھی نشاندہی کی جہاں اسے مبینہ طور پر لے جایا گیا۔ فیض یاب کا کہنا تھا کہ اس کا جی میل اور واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک کرلیا گیا ہے، جبکہ اب بھی اسے دھمکی آمیز کالز موصول ہورہی ہیں۔

متاثرہ نوجوان سے ابتدائی بیان لیا گیا ہے جبکہ ایس ایس پی ملیر عبدالخالق پیرزادہ نے بتایا کہ فیض یاب کا بیان ریکارڈ کرلیا گیا ہے اور عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے گریڈ 17 کے ایک افسر سارے معاملے کی تفتیش کرینگے۔

ایس ایس پی ملیر عبد الخالق پیرزادہ کے مطابق فیض یاب کے ابتدائی بیان اور سی سی ٹی وی فوٹیجز میں تضاد پایا جاتا ہے، متاثرہ نوجوان  نے بیان میں کہا کہ اس پر تشدد کیا گیا اور ناک پر مکے مارے گئے، تاہم ائیرپورٹ سے حاصل کی گئی فوٹیجز میں فیض یاب کو ائیرپورٹ سے ٹھیک حالت میں باہر نکلتے دیکھا گیا۔

پولیس کے مطابق نوجوان نے بتایا کہ وہ مختلف افراد کے پیسے لگا کر آن لائن کاروبار کرتا رہا ہے جبکہ وہ طلحہ نامی شخص سے ملنے کراچی آیا تھا۔

پولیس حکام نے مزید بتایا کہ متاثرہ نوجوان نے طلحہ کے بارے میں اب تک کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیجز میں فیض یاب کو ائیرپورٹ کے ایک مقام پر تقریباً 50 منٹ تک بیٹھا دیکھا گیا جبکہ ڈیڑھ سے دو منٹ کیلئے وہ وہاں سے اٹھ کر دوبارہ واپس آیا۔

ایس ایس پی ملیر عبدالخالق پیرزادہ کے مطابق فیض یاب کے بیان اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر تفتیش جاری ہے، اور انکوائری مکمل ہونے کے بعد رپورٹ عدالت میں جمع کرادی جائے گی۔

واضح رہے نوجوان کے بیان کے مطابق ڈیجیٹل کرنسی کی مبینہ چوری کا معاملہ 30 ستمبر کو کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پیش آیا تھا جسکے بعد متاثرہ نوجوان فیض یاب نے پولیس کو اطلاع دی تھی تاہم ثنوائی نا ہونے پر عدالت سے رابطہ کیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا