ملکی معیشت کی ترقی میں اوورسیز پاکستانیزکی شراکت داری ناگزیر ہے، عاطف اکرام شیخ WhatsAppFacebookTwitter 0 2 May, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کی ترقی اور استحکام میں سمندر پار پاکستانیوں کی شراکت داری ناگزیر ہے ،اوورسیز پاکستانیز کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ وہ جمعہ کو چیئر مین اوورسیز پاکستانیز فائونڈیشن سید قمر رضا سے ملاقات میں گفتگو کر رہے تھے ۔

ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور ،اوورسیز پاکستانیز کے مسائل سمیت دیگر اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔صدر ایف پی سی سی آئی نے گزشتہ ہفتے اوورسیز کنونشن کے کامیاب انعقاد پر چیئر مین او پی ایف کو مبارکباد پیش کی ۔ عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ملکی معیشت کی ترقی اور استحکام میں سمندر پار پاکستانیوں کی شراکت داری ناگزیر ہے ، اوورسیز پاکستانیز کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے ، سمندر پار پاکستانیوں کے مقدمات کیلئے خصوصی عدالتیں کا قیام خوش آئند ہیں ۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے وزیر اعظم کی طرف سے اوورسیز پاکستانیز کیلئے اعلان کردہ پیکج کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ مارچ میں سمندرپار پاکستانیوں نے 4 اعشاریہ1ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات بھیجیں۔ چیئر مین اوورسیز پاکستانیز فائونڈیشن سید قمر رضا نے اس موقع پر کہا کہ سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے او پی ایف اور ایف پی سی سی آئی میں تعاو ن بڑھایا جائیگا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستانی میڈیا بیانیے کی جنگ جیت گیا، خوفزدہ بھارت نے آئی ایس پی آرکا یوٹیوب چینل بلاک کردیا پاکستانی میڈیا بیانیے کی جنگ جیت گیا، خوفزدہ بھارت نے آئی ایس پی آرکا یوٹیوب چینل بلاک کردیا پہلگام واقعے پر را کی خفیہ دستاویز لیک، بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی کا سربراہ برطرف پاک بھارت کشیدگی کے پیش نظر سلامتی کونسل کاہنگامی اجلاس بلانے کا عندیہ پاک بھارت کشیدگی، قومی اسمبلی کا اجلاس 5 مئی کو طلب کرنے کا فیصلہ نواز شریف سے عرفان صدیقی کی ملاقات، سینیٹ میں پارٹی کارکردگی پر گفتگو چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس، مجموعی کارکردگی کا جائزہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ملکی معیشت کی ترقی اوورسیز پاکستانیز ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ

پڑھیں:

بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب

اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔

تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت

اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی