پاکستانی بزنس لیڈر خاور حسین کو دبئی میں یوم پاکستان کی تقریب میں خصوصی ایوارڈ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
دبئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 2 مئی 2025ء)متحدہ عرب امارات میں پاکستان اور پاکستانیوں کی خدمات کے حوالے سے خاور حسین کسی تعارف کے محتاج نہیں، Generaltec کمپنی کے مالک خاور حسین، جن کی مصنوعات گلف اور دیگر ممالک میں ایک معتبر برانڈ بن چکی ہیں، نے اپنی محنت، معیار اور دیانت داری سے کاروباری حلقوں میں مضبوط مقام بنایا۔ انہوں نے سینکڑوں پاکستانیوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرکے نہ صرف ان کی زندگی سنواری بلکہ پاکستان کا نام بھی روشن کیا۔
(جاری ہے)
خاور حسین کو دبئی میں قونصلیٹ آف پاکستان کی جانب سے یوم پاکستان کی تقریب میں خصوصی ایوارڈ سے نوازا گیا، جو انہیں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے پیش کیا۔ اس پروقار تقریب میں وزارتِ خارجہ یو اے ای کے خالد محمد الکعبی، سفیر پاکستان فیصل نیاز ترمذی، قونصل جنرل حسین محمد سمیت اماراتی حکام، سفارت کاروں اور ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ ایوارڈ ملنے پر خاور حسین نے کہا کہ انہیں یہ اعزاز حاصل کر کے فخر محسوس ہو رہا ہے اور وہ جنرلٹیک کو ملنے والی پذیرائی پر دل کی گہرائی سے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لمحہ ان کے لیے نہایت قابلِ فخر اور یادگار ہے۔ کمیونٹی کی جانب سے بھی خاور حسین کو دل کھول کر مبارکباد دی گئی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے خاور حسین
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔