لاہور:

صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی میں پاکستانی میڈیا کا کردار قابل تعریف، صحافی خراج تحسین کے مستحق ہیں، آزادی صحافت کے لیے قربانیاں دینے والے صحافیوں کے بلند درجات کیلیے دعا گو ہوں، عصر حاضر میں صحافت کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے یہ خود میڈیا کے لیے بھی باعث تشویش ہے، ڈالر گیم کی وجہ سے ڈیجیٹل میڈیا پر فیک نیوز اور بدتمیزی کا طوفان ہے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے ’’آزادی صحافت کے عالمی دن‘‘ کے موقع پر منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں کیا۔ فورم میں چیئرپرسن ڈپارٹمنٹ آف پبلک ریلیشنز اینڈ ایڈورٹائزنگ، جامعہ پنجاب، ڈاکٹر فائزہ لطیف اور دانشور و کالم نگار سلمان عابد نے بھی شرکت کی جبکہ احسن کامرے نے معاونت کے فرائض سرانجام دیے۔

 عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ حکومت صحافیوں کی فلاح کیلیے کام کر رہی ہے، وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر جرنلسٹ سپورٹ فنڈ دوگنا کر دیا گیا، جلد صحافیوں کو صحت کارڈ جاری کیے جائیں گے، وزیر اعلیٰ پنجاب کے اپنی چھت اپنا گھر منصوبے کے تحت 3200 صحافیوں اور میڈیا پرسنز کو پلاٹ دیے جائیں گے۔

چیئرپرسن ڈپارٹمنٹ آف پبلک ریلیشنز اینڈ ایڈورٹائزنگ، جامعہ پنجاب، ڈاکٹر فائزہ لطیف نے کہا کہ ڈیجیٹل ورلڈ اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے دور میں ’انفارمیشن اسموگ‘ ہے، ہر طرف فیک نیوز، اے آئی آڈیو اور ویڈیو کا طوفان ہے، اس کے شر سے کوئی بھی محفوظ نہیں، لہٰذا ہمیں فیکٹ چیکنگ میکنزم کو فروغ دینا ہے۔

دانشور و کالم نگار سلمان عابد نے کہا کہ جمہوریت کی مضبوطی کیلیے میڈیا کی آزادی ناگزیر ہے۔ انھوں نے کہاکہ سوشل میڈیا پر تنقید ، تضحیک میں بدل گئی ہے، مادر پدر آزادی سے ٹرکائو اور ہیجانی کیفیت ہے، آئین پاکستان، قوانین اور ضابطہ اخلاق پابند کرتا ہے کہ آزادی اظہار ہو اور سب ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میڈیا پر کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا