کراچی سپر ہائی وے: عید الاضحیٰ کے جانور خریدنے کیلئے جانے والوں سے ڈیڑھ کروڑ لوٹ لئے گئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
عیدالاضحیٰ کے لیے مویشی خریدنے کے لیے کراچی سے میر پور خاص جانے والے بیوپاریوں کے قافلے پر ڈاکوؤں کا دھاوا۔ذرائع کے مطابق 19 سے 20 افراد پر مشتمل بیوپاریوں کا گروپ کراچی سے مویشی خریدنے کے لیے روانہ ہوا تھا اور ان کے پاس ڈیڑھ کروڑ روپے کی نقد رقم موجود تھی۔
جیسے ہی یہ قافلہ سپر ہائی وے پر بحریہ ٹاؤن کے قریب پہنچا وہاں سے ایک ویگو ڈالہ مسلسل ان کا پیچھا کرتا رہا۔ متاثرین کے مطابق ویگو ڈالے میں سوار افراد نے اسلحے کے زور پر گاڑی کو روکا اور بیوپاریوں سے ڈیڑھ کروڑ روپے کی خطیر رقم لوٹ کر فرار ہو گئے۔
واقعے کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دی گئی جس کے بعد بیوپاری فرحان قریشی کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ متاثرہ بیوپاریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکوؤں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور ان کی لوٹی گئی رقم واپس دلائی جائے۔
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور جائے وقوعہ کے اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک