آزاد ، غیر جانب دار میڈیا کسی بھی جمہوری معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے،ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
سیالکوٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 مئی2025ء) سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ آزاد ، غیر جانب دار میڈیا کسی بھی جمہوری معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر مقامی کالج سیالکوٹ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزاد ، غیر جانب دار میڈیا کسی بھی جمہوری معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی نہ صرف آئینی حق ہے بلکہ ایک مہذب معاشرے کی بنیادی ضرورت بھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا کو اگر دبایا جائے یا اس پر پابندیاں لگائی جائیں تو عوام کے علم میں سچائی نہیں آتی اور معاشرے میں افواہوں اور منفی پروپیگنڈے کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے کہاصحافت صرف خبر دینا نہیں، بلکہ ذمہ داری، تحقیق اور سچائی پر مبنی بیانیہ پیش کرنا ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال میں احتیاط سے کام لیں۔ سچ ،جھوٹ میں تمیز کرنا سیکھیں، جو مواد شیئر کریں اس کی صداقت پرکھیں انہوں نے کہا ڈیجیٹل دور میں ہر فرد صحافی ہے، تاہم ہر فرد کا ذمہ دار ہونا بھی ضروری ہے۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نےصحافیوں کو درپیش خطرات پر بھی روشنی ڈالی اور ان صحافیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہوئے یا زخمی ہوئے۔ تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کالج کے میڈیا سٹوڈنٹس کے ساتھ خصوصی نشست کی، جہاں انہوں نے طلبا کو مشورہ دیا کہ وہ صحافت کو محض روزگار کا ذریعہ نہ سمجھیں بلکہ ایک قومی خدمت کا درجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اچھے صحافی وہی ہوتے ہیں جو غیر جانبداری، تحقیق اور سچائی کے اصولوں پر قائم رہتے ہیں۔تقریب کے دوران طلباء و طالبات نے صحافت کی آزادی سوشل میڈیا پر اظہارِ رائے سے متعلق اپنے سوالات بھی پوچھے، جن کے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے مفصل اور مدلل جوابات دیے۔تقریب کے آخر میں پرنسپل کالج نے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا شکریہ ادا کیا اور ان کے خیالات کو علم و آگاہی کا قیمتی سرمایہ قرار دیا۔ اس موقع پر طلبا ، اساتذہ، مقامی صحافیوں، اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے انہوں نے کہا معاشرے کی کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔