آسٹریلوی وزیراعظم دوسری بار بھی منتخب، لیبر پارٹی کی تاریخی فتح
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
آسٹریلوی وزیراعظم دوسری بار بھی منتخب، لیبر پارٹی کی تاریخی فتح WhatsAppFacebookTwitter 0 3 May, 2025 سب نیوز
سڈنی (آئی پی ایس )آسٹریلوی وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے دوسری مدت کے لیے بھی انتخابی معرکہ مار لیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا میں ہونے والے انتخابات میں ایک بار پھر لیبر پارٹی نے تاریخی فتح حاصل کرلی۔لیبر پارٹی کے انتھونی البانیز مسلسل دوسری بار تین سالہ مدت کے لیے منتخب ہوگئے جو 21 سالہ تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے انتخابی نتائج تسلیم کرتے ہوئے اپنی شکست کا اعتراف کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم انتخابی مہم میں اتنی اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے جتنی درکار تھی۔آسٹریلوی الیکشن کمیشن کے مطابق بائیں بازو کی حکمراں جماعت لیبر پارٹی نے 70 نشستیں حاصل کیں جب کہ قدامت پسند اپوزیشن اتحاد کو صرف 24 نشستیں ملیں۔
علاوہ ازیں 13 نشستوں پر آزاد اور چھوٹی جماعتوں کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ کچھ نتائج کا انتظار ہے۔ حکمراں جماعت کی نشستوں کی تعداد 76 تک ہوسکتی ہے۔البتہ اگر لیبر پارٹی دو یا زیادہ نشستیں کھو بیٹھتی ہے تو اسے اتحادی حکومت بنانا ہوگی۔آسٹریلیا میں آخری بار کوئی اتحادی حکومت 2010 میں بنی تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارتی سرجیکل اسٹرائیک کا جھوٹ بھی بے نقاب، تجزیہ کاروں نے راز فاش کر دیا بھارتی سرجیکل اسٹرائیک کا جھوٹ بھی بے نقاب، تجزیہ کاروں نے راز فاش کر دیا کشمیرکا حل ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیح ہونا چاہئے، صرف مرہم پٹی نہیں، پاکستانی سفیر بھارت کا پاکستان سے فضائی اور زمینی راستوں سے ڈاک اور پارسل کے تبادلے معطل کرنے کا فیصلہ کینالز سے متعلق بلاول کا دعوی درست ثابت ہوا تو عارف علوی کو شوکاز دیا جائے گا، علی محمد آزاد کشمیر: بڑھتی ہوئی کشیدگی، بھارتی جارحیت کے امکانات کے باعث ہنگامی اقدامات کا جائزہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے 3 ہزار سے زائد کنٹریکٹ ملازمین کو نوکریوں سے نکال دیا گیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: لیبر پارٹی
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔