ادارے جب تک سیاست میں مداخلت کرینگے ملک ترقی نہیں کر سکتا، محمود اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
صوابی میں اولسی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ حکومت کس طرح آئی ہے کسی کو سمجھانے کی ضرورت نہیں۔ سب آئین کے اندر کام کریں اور پارلیمنٹ کو ملک کا سر چشمہ ہونا چاہئے، پاکستان میں سب سے بڑی دہشت گردی یہ ہے کہ 8 فروری کو بندوق کے زور پر لوگوں سے ووٹ کا حق چھین لیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ادارے جب تک سیاست میں مداخلت کریں گے ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ صوابی میں اولسی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ حکومت کس طرح آئی ہے کسی کو سمجھانے کی ضرورت نہیں۔ سب آئین کے اندر کام کریں اور پارلیمنٹ کو ملک کا سر چشمہ ہونا چاہئے، پاکستان میں سب سے بڑی دہشت گردی یہ ہے کہ 8 فروری کو بندوق کے زور پر لوگوں سے ووٹ کا حق چھین لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی تقسیم میں 50 فیصد پنجاب، 38 فیصد سندھ، 8 فیصد خیبرپختونخوا اور 3 فیصد بلوچستان کو دیا جا رہا ہے۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی اس تقسیم کو بلکل مسترد کرتی ہے۔
محمود اچکزئی نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی کو چاہیے کہ خیبرپختونخوا میں بھی دریاؤں سے نہریں نکالیں تاکہ ہماری زمینیں آباد ہوجائیں، ہم چاہتے کہ پاکستان یکجا ہو لیکن وہ تب ممکن ہوگا جب سب کو برابر کے حقوق اور وسائل پر پورا حق ملے گا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہمارا صوبہ وسائل سے مالا مال ہے، ہمیں کسی کی خیرات کی ضرورت نہیں، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دنیا کے تمام تر وسائل موجود ہیں، آئی ایم ایف سے جو قرضے لیے جا رہے ہیں اس میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا کو آج تک کتنا حصہ ملا؟۔ انکا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو چلانے کیلیے اپنے وسائل دیں گے لیکن ہمیں بھی اتنا حصہ چاہیے کہ ہم اپنے مسافر نوجوانوں کو واپس لاسکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز