جاپان میں 5 لاکھ 25 ہزار سے زائد خالی آسامیاں، پاکستانی افرادی قوت کے لیے بڑی خوشخبری
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
جاپانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ آئندہ برسوں میں ان کے ملک میں پاکستان سے ہنرمند پیشہ ور افراد کی مانگ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
جاپانی فرم ‘پلس ڈبلیو’ انکارپوریشن، جو جاپان کے افرادی قوت کے لیے پاکستانی ہنرمندوں کی سہولت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، نے پاکستان کے اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (او ای سی) کے ساتھ اپنے تعاون کی تجدید کی ہے۔
جمعہ کو ‘پاکستان-جاپان ہیومن ریسورسز اسٹیک ہولڈرز میٹنگ’ کے دوران دستخط کیے گئے تجدید شدہ معاہدے میں موجودہ اسپیشل اسکلڈ ورکر (ایس ایس ڈبلیو) پروگرام کی توسیع بھی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب کو پاکستانی افرادی قوت کی فراہمی کے تاریخی معاہدے پر دستخط
یہ نئی مفاہمت کی یادداشت اب ایس ایس ڈبلیو فریم ورک کے تحت صحت، زراعت، تعمیرات، اور ہوٹلنگ سمیت 14 اضافی شعبوں کا احاطہ کررہی ہے۔ اس وسیع دائرہ کار کا مقصد پاکستان کی ابھرتی ہوئی افرادی قوت کو جاپان کی لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
او ای سی کے منیجنگ ڈائریکٹر نصیر خان کاشانی، جنہوں نے نظر ثانی شدہ ایم او یو پر دستخط کیے، نے اس توسیع کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے نوجوان پیشہ ور افراد کو بیرون ملک مواقع سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
پلس ڈبلیو انکارپوریشن کی سی ای او واکاک ساکورائی نے نوٹ کیا کہ جاپان کو 2028 تک تقریباً 8 لاکھ 20 ہزار خصوصی ورکرز کی ضرورت ہوگی، جس میں فی الحال 5 لاکھ 25 ہزار سے زیادہ آسامیوں کی کمی ہے۔ انہوں نے 16 شعبوں کا خاکہ پیش کیا جہاں ہنرمند افرادی قوت کی ضرورت ہوگی، جو پاکستانی پیشہ ور افراد کے لیے مضبوط امکانات کی نشاندہی کرتا ہے۔
جاپان کے سفیر پاکستان، اکاماتسو نے بھی پاکستانی ٹیلنٹ کی قدر پر زور دیا، اور کہا کہ ان کی شمولیت دوطرفہ تعلقات کو گہرا کر سکتی ہے جبکہ جاپان کو اعلیٰ معیار کے انسانی سرمائے کی ضرورت کو پورا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سنگاپور میں روزگار کے حصول کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری
جاپان کے ٹیک سیکٹر میں پاکستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کی شرکت نے پہلے ہی امید افزا نتائج دکھائے ہیں۔ پلس ڈبلیو، جاپان اسٹیشن، اور کوماٹسو پاکستان سوفٹ جیسی کمپنیاں اس سلسلے میں راستہ ہموار کر رہی ہیں، اور مزید فرمیں جاپانی مارکیٹ میں داخل ہو رہی ہیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے پیشہ ورانہ نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے دونوں اقوام کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا جبکہ وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ نے ٹوکیو میں جاپان آئی ٹی ویک میں پاکستانی فرموں کی کامیابیوں کو اجاگر کیا، جہاں 15 کمپنیوں نے 6 لاکھ ڈالر سے زیادہ کا کاروبار کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیشہ ور افراد افرادی قوت کے لیے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک