پاکستان سمیت دنیا میں فائر فائٹرز کا عالمی دن آج منایا جارہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
آج عالمی فائر فائٹرز کا دن منایا جا رہا ہے۔ 4 مئی کا دن دنیا بھر میں ان فائر فائیٹرز کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے منایا جاتا ہے جواپنی جانیں عوام کی جان و مال کی حفاظت کرتے ہوئے نچھاور کر دیتے ہیں۔
عالمی سطح پر فائر فائٹرز کا دن منانے کا آغاز 1999 میں شروع ہوا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ آسٹریلیا میں لگنے والی وہ آگ تھی جس کو بجھانے کی کوشش میں 5 فائرفائٹرز اپنی جان کی بازی ہار گئے تھے۔
اس دن کی مناسبت سے ملک بھر میں مختلف اداروں کے زیراہتمام پروگرامز، کانفرنسز اور سیمینارز کا انعقاد بھی کیا جارہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
4مئی آسٹریلیا فائر فائٹنگ کا عالمی دن فائرفائٹر ڈے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا سٹریلیا فائر فائٹنگ کا عالمی دن فائرفائٹر ڈے
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔