پاک فضائیہ نے میزائلوں سے لیس 4 بھارتی طیاروں کو کیسے واپس بھگایا؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
پاک فضائیہ نے 29 اور 30 اپریل کی شب بھارت کی پاکستان کی جانب پیش قدمی کی کوشش کو کیسے ناکام بنایا؟ اور بھارت کے 4 جدید رافیل طیاروں کو کیسے بھاگنے پر مجبور کیا، جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان کے اینکر شہزاد اقبال تفصیل منظرِ عام پر لے آئے۔
ذرائع کے مطابق چار روز پہلے بھارت کے 4 رافیل طیاروں نے پاکستان میں زمینی کارروائی کے لیے امبالا فضائی اڈے سے اڑان بھری، یہ طیارے فضا سے زمین میں مار کرنے والے میزائلوں سے لیس تھے۔
ابھی یہ طیارے 40 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز ہی کر رہے تھے کہ پاکستان کے ایئر ڈیفنس سسٹم نے Electronic Warfare Assets کے ذریعے رافیل طیاروں کے آن بورڈ سینسرز جام کر دیے جس سے ان طیاروں کا آپس میں اور زمین سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
مودی کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب، لائیو پروگرام میں ویڈیو چلادی گئیٹی وی پروگرام میں کانگریس رہنما کی جانب سے مودی کی تقریر کا ویڈیو کلپ چلا کر مودی اور بھارتی میڈیا کے منہ پر طمانچہ مارا گیا
پاک فضائیہ کے جے ٹین سی(J10C) طیارے بھی کسی بھی قسم کی کارروائی روکنے کے لیے فضا میں موجود تھے۔
پاک فضائیہ کی مؤثر جوابی کارروائی کی وجہ سے بھارتی طیاروں کو واپس امبالا کے بجائے سری نگر میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پاک فضائیہ
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔