اسرائیل کے بین گوریون ایئرپورٹ پر حوثیوں کا میزائل حملہ، 6 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
اسرائیل کے بین گوریون ایئرپورٹ کے نزدیک حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملے میں 6 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
حملے کے بعد ایئرپورٹ کی فضائی حدود کو پروازوں کے لیے بند کردیا گیا تاہم بعد میں اسے بحال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران کے بعد حوثیوں نے بھی اسرائیل پر حملہ کردیا
میزائل حملے کے بعد اسرائیلی وزیردفاع نے حوثیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی ہم پر حملہ کرے گا ہم اس کا بھرپور جواب دیں گے جبکہ دوسری طرف یمن میں موجود حوثیوں باغیوں کے ایک سینیئر عہدیدار قطر کی ایک ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ اسرائیل کے اندر حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ہماری صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
Absolutely INSANE footage of the impact from a Houthi missile on Israel’s Ben Gurion airport.
What would happen if this was JFK or Heathrow – do you think the Houthis would exist tomorrow? How about their Iranian backers? pic.twitter.com/Qbv5BeGxWG
— Aviva Klompas (@AvivaKlompas) May 4, 2025
اسرائیلی فورسز نے تسلیم کیا ہے کہ حملہ بیلسٹک میزائل کا تھا جسے وہ متعدد کوششوں کے بعد بھی بروقت روکنے میں ناکام رہے۔ اسرائیل ایئرپورٹ اتھارٹی نے کہا ہے کہ وہ اس حملے کی تحقیقات کررہے ہیں
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل حوثی باغی میزائل حملہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل میزائل حملہ کے بعد
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔