اسرائیل میں نیتن یاہو کیخلاف بڑا مظاہرہ، جنگ بندی اور یرغمالیوں کی واپسی کا مطالبہ زور پکڑ گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
اسرائیل میں نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف تل ابیب میں ہزاروں اسرائیلی ایک بار پھر سڑکوں پر نکل آئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے نیتن یاہو حکومت سے غزہ میں جنگ بندی معاہدہ مکمل کرنے اور یرغمالیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی پالیسیوں نے ملک کو بحران میں دھکیل دیا ہے۔
دوسری جانب غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملے جاری ہیں، 24 گھنٹے میں مزید 30 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے پناہ گزین کیمپوں، خیموں اور گھروں کو نشانہ بنایا۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی طیاروں کی شجاعیہ میں گھر پر بمباری سے 10 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔
دراج محلے میں شہریوں پر ڈرون حملے میں 4 اور زیتون میں 2 فلسطینی شہید ہوئے۔ خان یونس میں رہائشی مکان پر حملے میں 11 اموات ہوئیں۔
ادھر رفح میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 4 زخمی ہوگئے۔
7 اکتوبر 2023 سے فلسطینی شہدا کی مجموعی تعداد 52 ہزار 495 تک پہنچ گئی۔
عرب میڈیا کے مطابق 2 ماہ سے جاری اسرائیلی محاصرے سے غزہ میں غذائی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ غزہ شہر کے اسپتال میں غذائی کمی کا شکار بچی انتقال کرگئی۔
غذائی قلت سے ہونے والی اموات کی تعداد 57 ہوگئی۔ حماس نے اسلامی دنیا سے ایک بار پھر مدد کی اپیل کی ہے۔ حماس نے بیان میں کہا کہ غزہ میں ہونے والے قتل عام اور قحط رکوانے کے لیے مسلم ممالک اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔