پی ٹی آئی نے سیاسی جماعتوں کو دی جانیوالی بریفنگ عمران خان کے بغیر ادھوری قرار دیدی
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
اپنے ایک جاری کردہ بیان میں بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ پی ٹی آئی پاکستان کی مقبول ترین جماعت ہے، ملکی سلامتی کے کسی بھی اجلاس میں عمران خان کی شرکت وقت کی ضرورت ہے. اسلام ٹائمز۔ مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کو دی جانے والی بریفنگ عمران خان کے بغیر ادھوری ہے، اس وقت عمران خان ملک کے مقبول ترین لیڈر ہیں۔ اپنے ایک جاری کردہ بیان میں بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ پی ٹی آئی پاکستان کی مقبول ترین جماعت ہے، ملکی سلامتی کے کسی بھی اجلاس میں عمران خان کی شرکت وقت کی ضرورت ہے، عمران خان کو قومی فیصلوں میں شامل کرنا ناگزیر ہے، جعلی مقدمات ختم کر کے عمران خان کو مشاورت میں شامل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت اتحاد اور یگانگت کا متقاضی ہے، جعلی حکومت نے فسطائیت کے ذریعے قوم کو تقسیم کر رکھا ہے، جعلی مینڈیٹ والی حکومت قوم کو یکجا کرنے میں ناکام ہے۔ پی ٹی آئی رہنما$ نے کہا کہ قوم کو اکٹھا کرنے کے لیے عمران خان کی رہائی ضروری ہے، پی ٹی آئی کے خلاف فسطائی رویہ ترک کرنا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔